حیدرآباد (دکن فائلز) کیرالہ کے ضلع کاسرگوڈ میں منجیشورم اسمبلی حلقہ کے ایک مسلمان شہری کو اُس وقت شدید ذہنی اذیت سے گزرنا پڑا جب ایک مقامی بی جے پی لیڈر کی شکایت پر انہیں اپنی بھارتی شہریت ثابت کرنے کے لیے الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر کے سامنے پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا گیا۔ بعد ازاں سماعت میں شکایت کو بے بنیاد قرار دے دیا گیا اور ضلع کلکٹر نے شکایت کنندہ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا۔
دی نیوز منٹ کی رپورٹ کے مطابق 55 سالہ کے محمد، جو اُپّالا کے رہائشی اور بوتھ نمبر 128 کے ووٹر ہیں، کو 12 جنوری کو ایک نوٹس موصول ہوا جس میں 13 فروری کو منجیشورم تعلقہ دفتر میں حاضر ہونے کو کہا گیا تھا۔ نوٹس میں کہا گیا تھا کہ وہ ’’بھارتی شہری نہیں ہیں‘‘ اور انہیں اپنی شہریت کے ثبوت پیش کرنے ہوں گے۔
محمد کے مطابق، “میں یہیں پیدا ہوا، یہیں پڑھا لکھا اور ساری زندگی یہیں گزاری۔ اچانک یہ کہنا کہ میں بھارتی شہری نہیں ہوں، میرے لیے بہت صدمے کی بات تھی۔”
یہ کارروائی اُس شکایت کے بعد عمل میں آئی جو منجیشورم کے بی جے پی رہنما لوکیش نندا ایس نے فارم 7 کے تحت دائر کی تھی۔ فارم 7 انتخابی فہرست سے کسی نام کو حذف کرانے یا اس کی شمولیت کو چیلنج کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، خاص طور پر ایس آئی آر مہم کے دوران، جس کے تحت گھر گھر جا کر ووٹر فہرستوں کی جانچ کی جاتی ہے۔ کیرالہ میں یہ عمل 4 نومبر سے شروع ہوا تھا۔
13 فروری کو محمد نے سماعت میں شرکت کی اور اپنا راشن کارڈ، ووٹر آئی ڈی اور آدھار کارڈ پیش کیے۔ ضلع کلکٹر کے مطابق، شکایت کنندہ بھی سماعت میں موجود تھا لیکن وہ اپنے الزامات کے حق میں کوئی دستاویزی ثبوت پیش نہ کر سکا۔
کلکٹر نے اپنے بیان میں کہا کہ دستاویزات کی جانچ اور معلومات کی بنیاد پر شکایت کو ’’بے بنیاد اور غلط‘‘ پایا گیا، لہٰذا محمد کا نام ووٹر فہرست میں برقرار رکھا جائے گا۔ ساتھ ہی لوکیش کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا گیا۔
تاہم لوکیش نندا نے میڈیا سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ ان کی شکایت میں ’’غیر بھارتی شہری‘‘ ہونے کا ذکر نہیں تھا بلکہ انہوں نے صرف ’’مستقل طور پر منتقل ہو جانے‘‘ کی بنیاد پر اعتراض اٹھایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ تفتیش کے دوران اپنے ثبوت پیش کریں گے۔
محمد کے علاوہ چھ خواتین اسما (64)، صفیہ (51)، نبیسا (75)، ایم سنیفہ (25)، کبریٰ (35) اور صبیدہ (55) کو بھی اسی نوعیت کے نوٹس موصول ہوئے۔ ان میں سے بعض شادی کے بعد ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے اسی حلقہ میں مقیم ہیں جبکہ دیگر یہیں پیدا ہوئیں اور پلی بڑھیں۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ شکایت کنندہ ان میں سے بیشتر کو ذاتی طور پر جانتا ہے۔ متاثرین نے بھی الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر اور ضلع کلکٹر سے رجوع کیا، جس کے بعد 15 فروری کو کلکٹر نے کارروائی کا اعلان کیا۔ چونکہ حکام نے پایا کہ غلط معلومات جان بوجھ کر فراہم کی گئیں، اس لیے اسے عوامی نمائندگی ایکٹ 1950 کی دفعہ 31 کے تحت قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔


