حیدرآباد (دکن فائلز) سپریم کورٹ نے چہارشنبہ کے روز ہندی فلم یادو جی کی لو اسٹوری پر پابندی عائد کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔ یہ عرضی وشوا یادو پریشد کے سربراہ کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ فلم کا عنوان یادو برادری کے خلاف توہین آمیز اور منفی تاثر پیدا کرتا ہے۔
جسٹس بی وی ناگارتھنا اور جسٹس اجول بھویان پر مشتمل بنچ نے درخواست گزار کے دلائل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ محض عنوان کی بنیاد پر کسی برادری کو بدنام قرار دینا درست نہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیے: “کیا ایک ہندو لڑکی کا مسلمان لڑکے سے شادی کرنا قومی تانے بانے کو تباہ کر دیتا ہے؟”
بنچ نے کہا کہ فلم کے عنوان میں ایسا کوئی لفظ یا صفت موجود نہیں جو یادو برادری کو منفی انداز میں پیش کرتی ہو۔ عدالت نے کہا کہ “ہم ریکارڈ پر موجود مواد کا جائزہ لے چکے ہیں۔ اصل شکایت یہ ہے کہ فلم کا نام معاشرے میں یادو برادری کو بدنام کرتا ہے، اس لیے اسے تبدیل کیا جائے۔ ہم سمجھنے سے قاصر ہیں کہ فلم کا عنوان کسی برادری کو کیسے بدنام کر سکتا ہے۔ عنوان میں کوئی منفی لفظ شامل نہیں۔ خدشات بے بنیاد ہیں۔”


