حیدرآباد (دکن فائلز) ٹرمپ نے اپنے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کے دوران احتجاج کرنے والی ڈیموکریٹ ارکانِ کانگریس الہان عمر اور رشیدہ طلیب کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ’’جہاں سے آئی ہیں وہاں واپس بھیج دینا چاہیے‘‘۔ ان کے اس بیان کے بعد امریکی سیاست میں ایک بار پھر امیگریشن، نسلی بیانات اور سیاسی شائستگی کے موضوعات پر بحث تیز ہو گئی ہے۔
صدر ٹرمپ جب اپنی انتظامیہ کی سخت امیگریشن پالیسیوں اور کریک ڈاؤن کا دفاع کر رہے تھے تو اس دوران الہان عمر اور رشیدہ طلیب نے احتجاجاً نعرے لگائے کہ ’’آپ نے امریکیوں کو قتل کیا ہے‘‘۔ ان کے ساتھ چند دیگر ڈیموکریٹ ارکان نے بھی احتجاج کیا، جبکہ ایک رکن کو ایوان سے باہر بھی بھیج دیا گیا۔
بعد ازاں صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹرتھ سوشل‘‘ پر دونوں ارکان کو ’’بدعنوان اور کرپٹ سیاست دان‘‘ قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ان کا رویہ غیر مناسب تھا اور وہ امریکا کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ انہوں نے الہان عمر کے لیے سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے انہیں ذہنی طور پر غیر متوازن قرار دیا اور کہا کہ ایسے افراد امریکا کی خدمت نہیں کر سکتے بلکہ ملک کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
الہان عمر، جو ریاست مینی سوٹا کے پانچویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ کی نمائندگی کرتی ہیں اور صومالی نژاد امریکی کمیونٹی سے تعلق رکھتی ہیں، نے ردعمل میں کہا کہ انہوں نے صدر کو یاد دلایا کہ ان کی امیگریشن پالیسیوں کے باعث ان کے حلقہ انتخاب کے دو افراد ہلاک ہوئے۔ واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں مینی سوٹا میں امیگریشن چھاپوں کے خلاف احتجاج کے دوران دو شہری وفاقی کارروائی میں مارے گئے تھے۔
رشیدہ طلیب، جو امریکی کانگریس میں فلسطینی نژاد پہلی خاتون رکن ہیں، نے بھی سوشل میڈیا پر صدر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ دو مسلم خواتین کی بات برداشت نہیں کر سکے۔
دوسری جانب امریکہ کی معروف مسلم تنظیم سی اے آئی آر نے صدر کے بیانات کو متعصبانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی زبان سیاسی تقسیم اور نفرت کو فروغ دیتی ہے اور جمہوری اقدار کے منافی ہے۔


