بڑی خبر: دہلی ایکسائز پالیسی کیس میں اروند کیجریوال، منیش سسودیا، کے کویتا سمیت تمام 23 ملزمان بری

حیدرآباد (دکن فائلز) دہلی کی ایک خصوصی عدالت نے جمعہ 27 فروری کو ایک اہم فیصلے میں دہلی ایکسائز پالیسی کیس میں سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال، سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا، اور تلنگانہ جاگروتی کی صدر و سابق ایم ایل سی کے کویتا سمیت تمام 23 ملزمان کو ڈسچارج کر دیا ہے۔

خصوصی جج جتیندر سنگھ نے یہ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملزم کے خلاف بادی النظر کوئی مقدمہ ثابت نہیں ہوتا اور استغاثہ کی جانب سے پیش کردہ مواد عدالتی جانچ پر پورا نہیں اترتا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ دہلی ایکسائز پالیسی 2021–22 کی تشکیل میں کسی قسم کی وسیع پیمانے پر سازش یا مجرمانہ نیت کا ثبوت سامنے نہیں آیا۔ عدالت کے مطابق تفتیشی ایجنسی نے مفروضوں اور قیاس آرائیوں کی بنیاد پر سازش کا بیانیہ قائم کرنے کی کوشش کی، جو قانونی معیار پر پورا نہیں اترتا۔

یہ کیس 2022 میں اس وقت درج کیا گیا تھا جب دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ کی شکایت کے بعد سی بی آئی نے ایف آئی آر درج کی تھی۔ بعد ازاں ای ڈی نے بھی منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت علیحدہ مقدمہ قائم کیا تھا۔

عدالت نے سی بی آئی کی تفتیشی حکمتِ عملی پر سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی ملزم کو معافی دے کر اسے اپروور بنانا اور پھر اس کے بیانات کی بنیاد پر تفتیش میں موجود خلا کو پُر کرنا یا دیگر افراد کو ملوث کرنا مناسب طرزِ عمل نہیں ہے۔

جج نے مشاہدہ کیا کہ اگر اس قسم کی روش کو اجازت دی گئی تو یہ آئینی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہوگی۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ سی بی آئی کے ان افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش کی جائے گی جنہوں نے سرکاری ملازم کلدیپ سنگھ کو مقدمے میں ملزم نمبر ایک بنایا۔

یہ معاملہ دہلی حکومت کی 2021–22 کی ایکسائز پالیسی سے جڑا ہے، جسے بعد میں واپس لے لیا گیا تھا۔ سی بی آئی کا الزام تھا کہ اس پالیسی میں دانستہ طور پر ایسی خامیاں رکھی گئیں جن سے مخصوص نجی کمپنیوں کو فائدہ پہنچایا گیا، لائسنس فیس میں کمی کی گئی اور منافع کی حد مقرر کی گئی، جس کے نتیجے میں مبینہ طور پر کک بیکس دیے گئے اور سرکاری خزانے کو نقصان ہوا۔ تاہم عدالت نے قرار دیا کہ ان الزامات کی تائید میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا۔

اس کیس میں اروند کیجریوال اور منیش سسودیا سمیت کئی اپوزیشن رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ نچلی عدالت اور دہلی ہائی کورٹ سے ضمانت مسترد ہونے کے بعد بالآخر سپریم کورٹ سے انہیں راحت ملی تھی۔ اروند کیجریوال ملک کے پہلے برسرخدمت وزیر اعلیٰ تھے جنہیں عہدے پر رہتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔

فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے اس کیس کو “بڑی سیاسی سازش” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عام آدمی پارٹی کو تباہ کرنے کے لیے اس کے سرکردہ پانچ رہنماؤں کو جیل بھیجا گیا۔ جذباتی انداز میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ “کیجریوال کرپٹ نہیں ہے۔ میں نے ہمیشہ ایمانداری سے زندگی گزاری ہے۔ جھوٹا مقدمہ بنایا گیا اور آج عدالت نے سچ ثابت کر دیا ہے۔”

اس موقع پر منیش سسودیا بھی ان کے ہمراہ موجود تھے اور دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کو گلے لگا کر فیصلے کا خیرمقدم کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں