مدینہ بس سانحہ: تلنگانہ حکومت کی جانب سے متاثرہ خاندانوں میں فی کس 5 لاکھ روپے امداد کی تقسیم

حیدرآباد (دکن فائلز) سعودی عرب کے شہر مدینہ منورہ کے قریب گزشتہ برس پیش آنے والے المناک بس حادثے میں جاں بحق ہونے والے 44 عازمینِ عمرہ کے خاندانوں میں تلنگانہ کے وزیرِ اعلیٰ ریونت ریڈی نے فی کس 5 لاکھ روپے بطور ایکس گریشیا امداد تقسیم کی۔ یہ رقم ہفتہ 28 فروری کو ڈاکٹر بی آر امبیڈکر تلنگانہ اسٹیٹ سکریٹریٹ میں متاثرین کے لواحقین کے حوالے کی گئی۔

حکومت کی جانب سے مجموعی طور پر 2 کروڑ 23 لاکھ روپے کی امدادی رقم فراہم کی گئی، جبکہ حادثہ میں واحد زندہ بچ جانے والے محمد عبدالشعیب کو 3 لاکھ روپے کی مالی مدد دی گئی۔

یاد رہے کہ 17 نومبر 2025 کو مدینہ شہر کے مضافات میں عازمینِ عمرہ کی بس ایک ڈیزل ٹینکر سے ٹکرا گئی تھی، جس کے نتیجے میں بس میں آگ بھڑک اٹھی اور 44 حیدرآبادی زائرین جاں بحق ہوگئے۔ بس میں کل 45 افراد سوار تھے جن میں 16 مرد، 28 خواتین اور 10 بچے شامل تھے۔

وزیرِ اعلیٰ ریونت ریڈی نے اس موقع پر کہا کہ اگرچہ بیرونِ ملک پیش آنے والے حادثات میں ریاستی حکومت کی جانب سے معاوضہ دینے کا کوئی باقاعدہ نظام موجود نہیں، تاہم حکومت نے انسانی ہمدردی کے تحت متاثرہ خاندانوں کی مدد کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ “یہ حکومت عوام کی ہے، کسی کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، ریاست ہر مشکل گھڑی میں اپنے شہریوں کے ساتھ کھڑی ہے۔”

انہوں نے حادثے کے فوری بعد کیے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ریاستی حکومت نے فوری طور پر ایک نمائندہ وفد مدینہ روانہ کیا۔ اقلیتی بہبود کے وزیر محمد اظہرالدین کو سعودی حکام سے رابطہ اور انتظامات کی نگرانی کے لیے مدینہ بھیجا گیا۔ تلنگانہ حج کمیٹی اور جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ نے جدہ میں بھارتی قونصل خانے سے رابطہ کر کے کنٹرول روم قائم کیا۔

وزیرِ اعلیٰ کے مطابق جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ کو ہنگامی بنیادوں پر پاسپورٹ اور ویزے جاری کروا کر مدینہ بھیجا گیا، جبکہ سعودی حکام کے تعاون سے اسلامی روایات کے مطابق تدفین کے انتظامات جنت البقیع میں مکمل کیے گئے۔

ریونت ریڈی نے اس موقع پر اقلیتی برادری سے اپنے دیرینہ تعلق کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ 2009 میں کوڑنگل سے رکنِ اسمبلی منتخب ہونے کے بعد سے وہ ہر سال اپنے ذاتی خرچ پر پانچ افراد کو حج کی سعادت کے لیے بھیجتے رہے ہیں، جن کے انتخاب کی ذمہ داری مقامی مسلم عمائدین کو سونپی جاتی ہے۔

اس موقع پر وزیر محمد اظہرالدین، حکومت کے مشیر محمد علی شبیر کے علاوہ دیگر موجود تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں