آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد عالمی سطح پر احتجاج، ہندوستان، پاکستان، عراق سمیت کئی ممالک میں شدید مظاہرے

حیدرآباد (دکن فائلز) ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی امریکی۔اسرائیلی حملے میں ہلاکت کے بعد دنیا کے مختلف ممالک میں شدید احتجاجی لہر دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ہزاروں مظاہرین نے امریکہ کے سفارتی مراکز کے باہر جمع ہو کر مظاہرے کیے، جبکہ بعض مقامات پر صورتحال کشیدہ ہوگئی۔

پاکستان کے شہرکراچی میں اتوار کے روز امریکی قونصل خانے کے باہر احتجاج پرتشدد رخ اختیار کر گیا۔ ریسکیو ادارے ایدھی فاؤنڈیشن کے ترجمان محمد امین کے مطابق کم از کم آٹھ افراد ہلاک جبکہ 20 سے زائد زخمی ہوئے، جن میں سے بیشتر کو گولیاں لگیں۔

عینی شاہدین کے مطابق سینکڑوں مظاہرین قونصل خانے کی عمارت کی جانب بڑھے، مرکزی دروازہ پھلانگ کر اندرونی حصے تک پہنچ گئے اور عمارت کے شیشے توڑ دیے۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا، جس کے بعد ہجوم منتشر ہوگیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں نوجوانوں کو عمارت کے شیشے توڑتے اور امریکی پرچم لہراتے کمپاؤنڈ کے باہر نعرے بازی کرتے دیکھا گیا۔

لاہور اور اسکردو سمیت ملک کے مختلف شہروں میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سفارتی انکلیو کے قریب بھی احتجاجی مظاہرے کی اطلاعات ہیں۔ عراق میں حکومت نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ بغداد کے گرین زون میں امریکی سفارت خانے کی جانب مظاہرین نے پیش قدمی کی کوشش کی۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو سیل کر دیا اور ہجوم کو پیچھے دھکیل دیا۔

جموں و کشمیر میں سری نگر اور دیگر شیعہ اکثریتی علاقوں میں بھی سینکڑوں افراد نے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا۔ حکام کے مطابق مظاہرے پرامن رہے اور شرکاء نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نعرے بازی کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں