حیدرآباد (دکن فائلز) ایران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد پیدا ہونے والی غیر معمولی صورتحال کے پیشِ نظر ملک کا نظم و نسق سنبھالنے کے لیے عبوری قیادت کونسل تشکیل دے دی گئی ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق آیت اللہ علی رضا اعرافی کو قیادت کونسل کا فقیہ مقرر کیا گیا ہے جو عارضی طور پر سپریم لیڈر کے فرائض انجام دے گی۔
رپورٹس کے مطابق تین رکنی عبوری کونسل میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی اژہای بھی شامل ہیں۔ یہ کونسل نئے سپریم لیڈر کے انتخاب تک ریاستی و انتظامی معاملات، پالیسی سازی اور دفاعی امور کی نگرانی کرے گی تاکہ قیادت کے خلا کو پُر کیا جا سکے اور حکومتی تسلسل برقرار رہے۔
ایرانی آئین کے آرٹیکل 111 کے تحت، سپریم لیڈر کے عہدے کے خالی ہونے کی صورت میں ایک عبوری کونسل قائم کی جاتی ہے جو اس وقت تک ذمہ داریاں نبھاتی ہے جب تک مجلس خبرگان رهبری نیا سپریم لیڈر منتخب نہ کر لے۔ مجلس خبرگان ایک 88 رکنی آئینی ادارہ ہے جو رہبر کے انتخاب کا مجاز ہے۔
آیت اللہ علی رضا اعرافی اس وقت مجلس خبرگان کے نائب چیئرمین ہیں اور ماضی میں گارڈین کونسل کے رکن بھی رہ چکے ہیں، جو صدارتی و پارلیمانی امیدواروں کی اہلیت اور پارلیمنٹ سے منظور شدہ قوانین کا جائزہ لیتی ہے۔ وہ ایران کے دینی مدارس کے سربراہ بھی ہیں اور انتظامی صلاحیتوں کے باعث انہیں سابق سپریم لیڈر کے معتمدین میں شمار کیا جاتا ہے، تاہم بعض تجزیہ کاروں کے مطابق سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ میں ان کا اثر نسبتاً محدود سمجھا جاتا ہے۔
ذرائع کے مطابق ممکنہ امیدواروں میں مجتبیٰ خامنہ ای اور دیگر سینئر شخصیات کے نام بھی زیر گردش ہیں، تاہم حتمی فیصلہ مجلس خبرگان ہی کرے گی۔ عبوری کونسل اس عمل کی تکمیل تک ملک کی اعلیٰ قیادت کی ذمہ داریاں ادا کرتی رہے گی۔


