حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ میں جگتیال کے بیئرپور منڈل کے نرسی مہولاپلی گاؤں میں عیدگاہ کو مبینہ طور پر مسمار کیے جانے کے بعد شدید کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق، ہندتوا شدت پسند غنڈوں نے عیدالفطر سے قبل نہ صرف عیدگاہ کو نقصان پہنچایا بلکہ علاقہ میں فرقہ وارانہ ماحول کو بھی خراب کرنے کی کوشش کی۔
مجلس بچاؤ تحریک کے ترجمان امجد اللہ خان نے اس واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ پولیس نے مسلمانوں کو عیدالفطر کی نماز ادا کرنے سے روک دیا، جبکہ شرپسند عناصر کو کھلی چھوٹ دی گئی کہ وہ عیدگاہ کو نقصان پہنچائیں۔
انہوں نے بتایا کہ یہ زمین ایک مقامی شخص شیخ امام کی ذاتی ملکیت ہے، جس کی تصدیق محکمہ مال نے بھی کی ہے۔ کئی برسوں سے یہاں مسلمان عید کی نماز ادا کرتے آرہے ہیں۔ دس ایکڑ اراضی میں سے کچھ حصہ عیدگاہ کے لیے مخصوص کیا گیا تھا، مگر عین عید سے قبل اچانک فرقہ پرست عناصر نے صفائی اور تیاری کے کام کو روک دیا۔
امجد اللہ خان کے مطابق، پولیس کو چاہیے تھا کہ وہ فوراً مداخلت کر کے حالات کو قابو میں رکھتی اور مسلمانوں کو ان کے مذہبی حق کی ادائیگی کا موقع فراہم کرتی، لیکن اس کے برعکس پولیس نے راستوں کو بند کر کے مسلمانوں کو ہی روک دیا۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ پولیس کی موجودگی میں شرپسندوں نے عیدگاہ کے ممبر کو نقصان پہنچایا، زعفرانی جھنڈا لہرایا، کمکم چھڑکا اور وہاں مذہبی رسومات ادا کر کے اس مقام کی بے حرمتی کی۔
انہوں نے دفعہ 144 کے نفاذ کو بھی یکطرفہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا استعمال صرف مسلمانوں کو روکنے کے لیے کیا گیا، جبکہ اشتعال انگیزی کرنے والے عناصر کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ اس واقعہ نے ریاست میں برسرِ اقتدار کانگریس پارٹی کی حکومت پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
عوامی حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آخر کیوں حکومت ایسے حساس معاملے پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے؟ مذہبی مقامات کی حفاظت اور شہریوں کے آئینی حقوق کا تحفظ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے، جس میں بظاہر ناکامی نظر آ رہی ہے۔
امجد اللہ خان نے اس واقعہ کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑنے کی منظم سازش قرار دیتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اشوک کمار کے فوری تبادلے اور ان کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ریاست کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس سے مطالبہ کیا کہ ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور متاثرہ مسلم آبادی کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
مقامی مسلم برادری اس واقعہ کے بعد خوف و ہراس میں مبتلا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت فوری طور پر مداخلت کرے، مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لائے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں۔


