حیدرآباد (دکن فائلز) انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق ریاست اتر پردیش کے ضلع مین پوری کے قصبہ کُراولی میں عید کے دن پیش آنے والا ایک واقعہ سوشل میڈیا پر شدید بحث کا سبب بن گیا ہے، جہاں ایک پولیس افسر کی جانب سے نماز عید روکنے کی کوشش کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔
وائرل ویڈیو میں کُراولی تھانے کے ایس ایچ او للیت بھاٹی کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ “نہیں ہونے دوں گا”، جب کہ عیدگاہ کے متولی شاکر حسین انہیں یاد دلاتے ہیں کہ یہاں برسوں سے نماز ادا کی جاتی رہی ہے۔ ویڈیو میں افسر کو یہ دعویٰ کرتے ہوئے بھی سنا گیا کہ نماز “غیر قانونی طور پر” ادا کی جا رہی ہے اور حکومت کی ہدایت پر اسے روکا جا رہا ہے۔
مزید برآں، الزام ہے کہ ایس ایچ او نے متولی کو دھمکی دیتے ہوئے سخت اور نامناسب زبان استعمال کی، حتیٰ کہ انہیں مبینہ طور پر “میں یہیں گاڑ دوں گا” جیسی باتیں بھی کہیں، جس پر عوام میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب لوگ عیدگاہ کے باہر نماز ادا کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ پولیس نے باہر نماز ادا کرنے پر اعتراض کیا، جس کے بعد کچھ دیر کے لیے کشیدگی پیدا ہوگئی۔ تاہم بعد میں اعلیٰ افسران کی مداخلت کے بعد طے شدہ مقام پر نماز ادا کر لی گئی۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ مقامی ہندو برادری کے کئی افراد نے بھی واضح کیا کہ انہیں اس مقام پر نماز ادا کیے جانے پر کوئی اعتراض نہیں اور یہ روایت کئی برسوں سے جاری ہے۔ اس کے باوجود پولیس کے مبینہ سخت اور غیر مناسب رویہ نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے، خاص طور پر مذہبی آزادی اور انتظامیہ کے طرز عمل کے حوالے سے۔


