حیدرآباد (دکن فائلز) آندھرا پردیش کاؤنٹر انٹیلیجنس حکام نے مبینہ دہشت گرد نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں وجے واڑہ سے تین نوجوانوں کو گرفتار اور حیدرآباد سے ایک خاتون کو حراست میں لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق گرفتار شدگان کی شناخت محمد رحمت اللہ شریف، محمد دانش اور مرزا سہیل بیگ کے طور پر ہوئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ تینوں مبینہ طور پر بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں داعش اور القاعدہ سے رابطے میں تھے اور سوشل میڈیا کے ذریعہ نوجوانوں کو شدت پسندی کی طرف مائل کر رہے تھے۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ملزمان نے “المالک اسلامک یوتھ” کے نام سے ایک خفیہ گروپ تشکیل دیا تھا، جس کا مقصد نوجوانوں کو شدت پسند نظریات کی طرف راغب کرنا تھا۔ پولیس کے مطابق یہ گروپ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اشتعال انگیز مواد پھیلا کر خود کو “مجاہدین” کے طور پر پیش کرتا تھا اور کمزور و متاثرہ نوجوانوں کو اپنے نیٹ ورک میں شامل کرنے کی کوشش کرتا تھا۔
حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اس گروپ کے روابط ملک کی کم از کم سات ریاستوں تک پھیلے ہوئے تھے اور تقریباً 42 افراد اس نیٹ ورک کا حصہ تھے۔ ملزمان مبینہ طور پر پاکستان اور افغانستان میں عسکری تربیت حاصل کرنے کے منصوبے بھی بنا رہے تھے۔
چھاپوں کے دوران پولیس نے ملزمان کے قبضے سے موبائل فونز، لیپ ٹاپس اور دیگر الیکٹرانک آلات کے ساتھ ساتھ مبینہ طور پر اشتعال انگیز اور شدت پسندانہ مواد بھی برآمد کیا ہے۔ اسی کیس میں پیش رفت کرتے ہوئے کاؤنٹر انٹیلیجنس پولیس نے حیدرآباد کے علاقہ چندرائن گٹہ، چنچل گوڑہ میں سعیدہ بیگم کے گھر پر تلاشی لی اور انہیں سیکشن 41A کے تحت نوٹس جاری کرنے کے بعد حراست میں لے لیا۔ بعد ازاں انہیں وجے واڑہ منتقل کر دیا گیا جہاں نامعلوم مقام پر تفتیش جاری ہے۔
پولیس کے مطابق سعیدہ بیگم، جو اصل میں مہاراشٹر کے شہر شولاپور کی رہائشی ہیں، کافی عرصہ سے حیدرآباد میں مقیم تھیں۔ ان پر الزام ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے ذریعہ نوجوانوں کو شدت پسندی کی طرف مائل کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہی تھیں اور وجے واڑہ سے گرفتار تینوں ملزمان کے ساتھ تقریباً ایک سال سے رابطے میں تھیں۔
تحقیقات سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ ان کے پیچھے ایک غیر ملکی ہینڈلر کام کر رہا تھا اور مجموعی طور پر 12 افراد پر مشتمل ایک گروپ آن لائن رابطے میں تھا۔ پولیس نے دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف ریاستوں میں خصوصی ٹیمیں روانہ کر دی ہیں۔
وجے واڑہ کی انچارج کمشنر پولیس سروشریشٹھا ترپاٹھی نے میڈیا کو بتایا کہ “ہم نے سوشل میڈیا پر سرگرم شدت پسند گروپس کی نشاندہی کر کے ملزمان کو نگرانی میں رکھا اور مناسب وقت پر کارروائی کی۔ مزید ملزمان کی تلاش جاری ہے۔” انہوں نے خبردار کیا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے شدت پسندی پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
پولیس نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھیں تاکہ انہیں ایسے خطرناک نیٹ ورکس سے بچایا جا سکے۔ گرفتار تینوں ملزمان کو عدالت میں پیش کرنے کے بعد جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔


