حیدرآباد (دکن فائلز) سپریم کورٹ میں اس وقت ایک نہایت اہم آئینی اور مذہبی نوعیت کی بحث جاری ہے، جس کے دور رس اثرات پورے ملک میں مذہبی آزادی اور عدالتی اختیارات کے توازن پر پڑ سکتے ہیں۔ یہ معاملہ بنیادی طور پر سبرمالا کیس سے جڑا ہوا ہے، جس میں عدالت یہ طے کرے گی کہ مذہبی معاملات میں عدالت کا کردار کہاں تک ہونا چاہیے۔
لائیو لا کی رپورٹ کے مطابق اس کیس میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے عدالت میں تحریری مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتوں کو یہ اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ وہ یہ فیصلہ کریں کہ کسی مذہب میں کون سا عمل “بنیادی” ہے۔ بورڈ کے مطابق یہ معاملہ عقیدے، روایت اور مذہبی تشریح سے جڑا ہوا ہے، جسے صرف متعلقہ مذہب کے ماننے والے یا مذہبی ماہرین ہی بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔
بورڈ نے عدالت کو بتایا کہ “ایسنشل ریلیجیس پریکٹسز” کا اصول دراصل مذہبی آزادی میں مداخلت کا باعث بن سکتا ہے، کیونکہ اس کے تحت عدالتیں یہ جانچتی ہیں کہ کون سا عمل مذہب کا لازمی حصہ ہے اور کون سا نہیں۔ بورڈ کے مطابق:
* یہ تعین انتہائی موضوعی ہوتا ہے
* مختلف فرقوں اور افراد کے عقائد مختلف ہو سکتے ہیں
* عدالت اس پیچیدہ مذہبی تشریح کی ماہر نہیں ہوتی
اسی لیے بورڈ نے مؤقف اختیار کیا کہ ایسے معاملات کو عدالت کے بجائے مذہبی برادریوں پر چھوڑ دینا چاہیے۔
یہ پوری بحث ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 25 اور 26 کے گرد گھومتی ہے، جو شہریوں کو مذہبی آزادی اور اپنے مذہبی معاملات چلانے کا حق دیتے ہیں۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ اگر عدالتیں مذہب کے “بنیادی” پہلوؤں کا تعین کرنے لگیں تو یہ ان آئینی حقوق میں مداخلت کے مترادف ہوگا۔
سبرمالا کیس کی اصل بنیاد
یہ معاملہ دراصل 2018 کے سبرمالا مندر کیس سے شروع ہوا، جہاں عدالت نے ہر عمر کی خواتین کو مندر میں داخلے کی اجازت دی تھی۔ اس فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواستیں دائر ہوئیں، جس کے بعد عدالت نے بڑے آئینی سوالات ایک 9 رکنی بینچ کو بھیج دیے۔
اب یہ بڑا بینچ درج ذیل اہم سوالات پر غور کرے گا:
* کیا عدالت یہ طے کر سکتی ہے کہ کون سا مذہبی عمل ضروری ہے؟
* مذہبی آزادی اور مساوات کے درمیان توازن کیسے قائم ہوگا؟
* “آئینی اخلاقیات” کا مذہبی معاملات میں کیا کردار ہے؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ صرف مسلم پرسنل لا بورڈ ہی نہیں بلکہ دیگر مذہبی اداروں نے بھی عدالت سے اسی طرح کی گزارش کی ہے کہ مذہبی عقائد کا فیصلہ عدالت کے بجائے متعلقہ برادریوں پر چھوڑا جائے۔
یہ کیس صرف سبرمالا مندر تک محدود نہیں بلکہ پورے ہندوستان میں مذہب، آئین اور عدلیہ کے تعلق کی نئی تعریف متعین کر سکتا ہے۔ عدالت کا آنے والا فیصلہ اس بات کا تعین کرے گا کہ مذہبی خودمختاری کو کس حد تک تحفظ حاصل ہے اور کب ریاست یا عدالت اس میں مداخلت کر سکتی ہے۔


