کمال مولا مسجد تنازع: ججوں نے معائنہ کیا، مسلم فریق نے ہائی کورٹ کے حکم کو سپریم کورٹ میں کیا چیلنج

حیدرآباد (دکن فائلز) مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ کے دو ججوں جسٹس وجے کمار شکلا اور جسٹس آلوک اوستھی نے دو اپریل کو ہونے والی اہم سماعت سے قبل ضلع دھار میں واقع متنازعہ بھوج شالہ-کمال مولا مسجد کمپلیکس کا تفصیلی معائنہ کیا۔

سرکاری معلومات کے مطابق جج صاحبان کمپلیکس پہنچے اور تقریباً ایک گھنٹے تک وہاں موجود رہے۔ اس دوران ضلع کلکٹر پریانک مشرا، پولیس سپرنٹنڈنٹ ماینک اوستھی اور دیگر سینئر افسران بھی ان کے ہمراہ تھے۔ سخت سیکیورٹی انتظامات کے درمیان ججوں نے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے زیر انتظام اس مقام کے مختلف حصوں، ستونوں اور شلالیکھوں کا جائزہ لیا اور اس کی تاریخی و تعمیراتی خصوصیات کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔

یہ معاملہ ایک طویل عرصے سے تنازع کا شکار ہے۔ ہندو فریق اس مقام کو ماں واگ دیوی (سرسوتی) کا مندر قرار دیتا ہے، جبکہ مسلم فریق اسے کمال مولا مسجد مانتا ہے۔ اسی بنیاد پر یہ کیس برسوں سے عدالتوں میں زیر سماعت ہے۔

دوسری جانب مسلم فریق نے سپریم کورٹ آف انڈیا سے رجوع کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے 16 مارچ کے حکم کو چیلنج کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ انہیں اے ایس آئی رپورٹ پر مکمل اعتراضات پیش کرنے کا موقع نہیں دیا گیا، جو انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔ اس درخواست پر یکم اپریل کو سماعت متوقع ہے۔

ہائی کورٹ نے ہدایت دی ہے کہ 2 اپریل سے متنازع مقام کے مذہبی تشخص کے تعین کے لیے باقاعدہ سماعت شروع کی جائے گی۔ اتفاق سے اسی روز ہنومان جینتی بھی ہے، جس کے پیش نظر انتظامیہ کے لیے امن و امان برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ اس حساس کیس میں یکم اور دو اپریل کی تاریخیں غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں