حیدرآباد (دکن فائلز ویب ڈیسک) قابض اسرائیل کی پارلیمنٹ کنیسٹ نے فلسطینی اسیران کو سزائے موت دینے کے متنازع قانون کی دوسری اور تیسری خواندگی کے بعد حتمی منظوری دے دی ہے۔ اس قانون کے حق میں 62 جبکہ مخالفت میں 48 ارکان نے ووٹ دیا۔ اس مسودے کو کنیسٹ کی رکن لیمور سن ہارملیچ نے پیش کیا، جبکہ اس کی حمایت انتہا پسند وزیر قومی سلامتی بن جیور نے کی۔
قانون کے مطابق ایسے افراد کو سزائے موت دی جائے گی جنہیں ایسے حملوں میں ملوث پایا جائے جن میں اسرائیلی شہری ہلاک ہوئے ہوں۔ اس میں یہ بھی شامل ہے کہ سزا میں کسی قسم کی معافی یا کمی کی گنجائش نہیں ہوگی، اور سزا سنائے جانے کے 90 دن کے اندر اس پر عمل درآمد لازمی ہوگا۔
مزید برآں، اس قانون میں مغربی کنارے اور اسرائیل کے اندرونی علاقوں کے لیے الگ طریقہ کار رکھا گیا ہے، جبکہ بعض حالات میں وزیر اعظم کو محدود مدت کے لیے سزا مؤخر کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق اسرائیلی جیلوں میں تقریباً 9500 فلسطینی اور عرب قیدی موجود ہیں، جبکہ متعدد اسیران دورانِ حراست ہلاک ہو چکے ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر اس قانون پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور ممکنہ طور پر جنگی جرم کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ یورپی ممالک بشمول برطانیہ، جرمنی، فرانس، اٹلی نے بھی اسرائیل سے اس قانون کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور اسے غیر انسانی قرار دیا ہے۔
فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اس قانون کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جیلوں کے اندر قیدیوں کے خلاف مزید سخت کارروائیوں اور ممکنہ قتل کی راہ ہموار کرے گا، اور اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔


