مدرسہ اشرف العلوم حیدرآباد کے طلبا کے ساتھ دہلی ریلوے اسٹیشن پر شرانگیزی! مسلمانوں کا شدید ردعمل، شدت پسند جنونی کے خلاف کاروائی اور مسلم نوجوانوں کے تحفظ کا مطالبہ (انتہائی اشتعال انگیز ویڈیو)

حیدرآباد (دکن فائلز) حیدرآباد کے معروف و معتبر دینی تعلیمی ادارے مدرسہ اشرف العلوم سے وابستہ طلبا کرام، اعلیٰ دینی تعلیم کے حصول کے لیے دارالعلوم دیوبند کی جانب روانہ ہوئے تھے۔ اس مقدس علمی سفر کے دوران دہلی کے ریلوے اسٹیشن پر پیش آنے والا افسوسناک واقعہ نہ صرف دل کو دہلا دینے والا ہے بلکہ ملک میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت انگیزی کی ایک خطرناک مثال بھی ہے۔

اس موقع پر طلبا نے انتہائی صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور شرانگیز حرکت کی ویڈیو گرافی کرلی۔ طلبا نے خوفزدہ کرنے کی ناپاک حرکت پر انتہائی پرسکون انداز میں رہتے ہوئے شدت پسند کی شرانگیزی کا مناسب و بہتر جواب دیا۔ قابل تعریف بات یہ ہے کہ اس موقع پر طلبا نے کسی قسم کے ڈر یا خوف کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ ہمت و حوصلے سے جنونی شخص کی حرکتوں کو ہلکے میں لے لیا۔

اطلاعات کے مطابق، طلبا کرام کے ساتھ وہاں موجود شدت پسند جنونی جو حالت نشہ میں تھا نے انتہائی اشتعال انگیز اور نفرت آمیز رویہ اختیار کیا، جس سے طلبا شدید ذہنی اذیت کا شکار ہوئے۔ یہ عمل نہ صرف اخلاقی طور پر قابلِ مذمت ہے بلکہ ہندوستان جیسے کثیر الثقافتی اور جمہوری ملک کی بنیادی اقدار کے بھی منافی ہے۔

ملک بھر کے باشعور افراد، دینی و سماجی تنظیموں اور مسلمانوں نے اس واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ دار عناصر کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ اس کے ساتھ ہی یہ سوال بھی شدت سے اٹھ رہا ہے کہ آخر کب تک معصوم طلبا اور عام شہری نفرت کی سیاست کا شکار بنتے رہیں گے؟

شدت پسند عناصر کی جانب سے اس طرح کی شرانگیز حرکتیں دراصل معاشرے کے امن و سکون کو سبوتاژ کرنے کی منظم کوشش ہیں۔ ایسے عناصر نہ صرف ملک کی یکجہتی کے لیے خطرہ ہیں بلکہ نوجوان نسل کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ ان کے خلاف قانونی کارروائی کے ساتھ ساتھ سماجی سطح پر بھی بیداری اور اتحاد کی اشد ضرورت ہے۔

اس موقع پر اہلِ فکر و دانش نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تعلیمی سفر پر نکلنے والے طلبا کو تحفظ فراہم کرنا ریاست اور سماج دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اختلافات کے باوجود باہمی احترام اور برداشت ہی ایک مہذب معاشرے کی پہچان ہوتی ہے۔

آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلم نوجوانوں خاص طور پر دینی مدارس کے طلبا کرام کی حفاظت فرمائے، انہیں ہر طرح کے شر سے محفوظ رکھے اور ہمارے معاشرے میں امن، بھائی چارہ اور رواداری کو فروغ عطا فرمائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں