حیدرآباد (دکن فائلز) الہٰ آباد ہائی کورٹ نے ایک اہم کیس میں ریاستی حکومت سے سوال کیا ہے کہ آیا کسی عبادت گاہ کو بغیر پیشگی نوٹس اور سماعت کے سیل کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک شخص نے عدالت میں عرضی دائر کی کہ اس کی ملکیتی زمین پر تعمیر ہونے والی مسجد کو بغیر کسی اطلاع کے سیل کردیا گیا۔ عدالت نے اس پر سخت سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا ایسا اقدام “انصاف” کے اصولوں کے خلاف نہیں ہے۔
عدالت نے حکومت سے وضاحت طلب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ قانونی کارروائی میں شفافیت اور متاثرہ فریق کو سننے کا حق بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ہائی کورٹ نے اب ریاستی حکومت سے کہا ہے کہ وہ ایک حلف نامہ داخل کرے جس میں قانونی دفعات کی وضاحت کی جائے جس کے تحت کارروائی کی گئی اور کیا مناسب عمل کی پیروی کی گئی۔


