مولانا سجاد نعمانی کی ایران سپریم لیڈر کے نمائندہ سے دہلی میں اہم ملاقات: موجودہ حالات میں سنی۔شیعہ اتحاد پر دیا زور

حیدرآباد (دکن فائلز) معروف عالمِ دین مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی نے دہلی میں واقع ایران کلچر ہاؤس پہنچکر ایران کے سپریم لیڈر کے نمائندہ ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی سے ملاقات کی۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں کے درمیان باہمی امور، عالمی حالات اور خصوصاً امتِ مسلمہ کو درپیش چیلنجز پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی نے موجودہ حالات کے تناظر میں شیعہ۔سنی اتحاد کی اشد ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کا وقت امت کے لیے انتہائی نازک ہے، اور ایسے میں داخلی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر اتحاد و یکجہتی کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔

انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ یہ محض ایک علاقائی یا سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ حق اور باطل کے درمیان ایک بڑی کشمکش ہے، جس میں مسلمانوں کو مشترکہ موقف اختیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ باطل طاقتیں امت کو کمزور کرنے کے لیے تفرقہ پیدا کر رہی ہیں، جس کا مقابلہ صرف اتحاد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

مولانا نے مزید کہا کہ اس کٹھن وقت میں پوری امتِ مسلمہ کو ایران کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے اور ظلم، ناانصافی اور جارحیت کے خلاف متحد ہو کر آواز بلند کرنی چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ مسلم دنیا کو باہمی تعاون، فکری ہم آہنگی اور مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔

اس موقع پر ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی نے بھی مولانا کے خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ امتِ مسلمہ کا اتحاد ہی موجودہ چیلنجز کا مؤثر جواب ہے، اور اس سلسلے میں علماء و قائدین کا کردار نہایت اہم ہے۔

ملاقات کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ امتِ مسلمہ کے اتحاد، بھائی چارے اور مشترکہ جدوجہد کو فروغ دینے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے، تاکہ عالمی سطح پر مسلمانوں کے مسائل کا مؤثر حل نکالا جا سکے۔

گجرات میں یونیفارم سول کوڈ کے خلاف مسلم تنظیموں کی جانب سے زبردست احتجاج
حیدرآباد (دکن فائلز) گجرات میں حال ہی میں پاس ہونے والے یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) بل کے خلاف مسلم تنظیموں نے احتجاج اور قانونی جدوجہد کا اعلان کیا ہے۔

“گجرات مسلم ہٹ رکشک سمیتی” نامی تنظیم نے اعلان کیا ہے کہ ریاست بھر میں احتجاج کیے جائیں گے، جمعہ کے دن سیاہ پٹیاں باندھی جائیں گی اور اس بل کے خلاف عدالتوں میں چیلنج بھی کیا جائے گا۔

تنظیم کا مؤقف ہے کہ یہ بل آئینی اور مذہبی حقوق کے خلاف ہے، جبکہ حکومت اسے مساوات اور یکسانیت کی طرف قدم قرار دے رہی ہے۔ اس معاملے نے ملک میں ایک بڑی آئینی و سماجی بحث کو جنم دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں