حیدرآباد (دکن فائلز) اتر پردیش کے ضلع سیتاپور کی تحصیل لہَرپور کے نیا گاؤں بہیٹی علاقہ میں واقع ایک مسجد کو ضلع انتظامیہ نے پیر کی علی الصبح بھاری پولیس نفری کی موجودگی میں بلڈوزر کے ذریعے منہدم کر دیا۔ اس کارروائی نے مقامی سطح پر بے چینی اور بحث کو جنم دیا ہے، جہاں ایک طرف انتظامیہ اسے قانونی تقاضوں کے تحت کیا گیا اقدام قرار دے رہی ہے، وہیں دوسری جانب مقامی افراد اور سماجی حلقے اس کے طریقۂ کار پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔
سرکاری حکام کے مطابق، مذکورہ مسجد تقریباً 12 سال قبل اس زمین پر تعمیر کی گئی تھی جو سرکاری ریکارڈ میں تالاب اور قبرستان کے طور پر درج ہے۔ اس معاملے میں گرام سماج کی جانب سے شکایت درج کرائی گئی تھی، جس کے بعد 18 دسمبر 2025 کو باضابطہ مقدمہ قائم کیا گیا۔ بعد ازاں 6 جنوری 2026 کو تحصیلدار عدالت نے اس تعمیر کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے ہٹانے اور زمین خالی کرنے کا حکم دیا تھا۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ متعلقہ فریق کو متعدد بار نوٹس جاری کیے گئے، جن میں اتر پردیش ریونیو کوڈ کی دفعہ 67 کے تحت بھی نوٹس شامل تھا، مگر مقررہ مدت کے اندر زمین خالی نہیں کی گئی۔ اس کے بعد ضلع مجسٹریٹ کی ہدایت پر انہدامی کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ذرائع کے مطابق، اس آپریشن کی قیادت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نتیش کمار نے کی، جو تقریباً صبح 3 بجے اعلیٰ افسران کے ساتھ موقع پر پہنچے۔ کارروائی کے دوران 3 سے 8 جے سی بی مشینیں استعمال کی گئیں اور تقریباً 500 پولیس اہلکاروں، جن میں پی اے سی بھی شامل تھی، کو تعینات کیا گیا تاکہ کسی بھی ممکنہ مزاحمت یا بدامنی سے نمٹا جا سکے۔ صبح تقریباً 5 بجے انہدامی عمل شروع ہوا اور اسے مکمل کر لیا گیا۔
دوسری جانب، مقامی باشندوں اور مسجد سے وابستہ افراد نے اس اقدام پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسجد گزشتہ کئی برسوں سے باقاعدگی کے ساتھ عبادت کے لیے استعمال ہو رہی تھی اور علی الصبح کی گئی اس کارروائی نے علاقہ میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کر دی۔ بعض افراد نے اس پورے معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی بھی بات کی ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب اتر پردیش کے مختلف علاقوں میں مبینہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بلڈوزر کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے، جس میں مذہبی اور رہائشی ڈھانچے بھی شامل رہے ہیں۔ اس تناظر میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا ایسے معاملات میں تمام فریقوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جا رہا ہے اور دیگر مذاہب کی ہزاروں عبادتگاہیں غیرقانونی طور پر تعمیر کی گئی ہیں، ان کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کی جارہی ہے۔ کیا حکومت کی جانب سے مذہبی مقامات کے حوالے سے مناسب حساسیت اور متبادل انتظامات کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
ویڈیو دیکھنے کےلئے لنک پر کلک کریں:
https://www.instagram.com/reels/DWf6gfKiRPD/
اگرچہ انتظامیہ نے علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو قابو میں بتایا ہے اور کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں دی، تاہم یہ واقعہ ایک بار پھر زمین کے استعمال، قانونی عملداری اور اقلیتی حقوق کے تحفظ جیسے اہم موضوعات کو بحث کے مرکز میں لے آیا ہے۔


