اہم خبر: آسام انتخابات میں امیت شاہ اور ہیمنتا بسوا سرما کے پسندیدہ نعرہ ’دراندازی‘ پر اٹھ رہے ہیں سوال؟ آر ٹی آئی انکشافات نے دعوؤں کی پول کھول دی!

حیدرآباد (دکن فائلز) آسام اسمبلی انتخابات سے قبل “دراندازی” کا مسئلہ ایک بار پھر سیاسی بیانیے کا مرکز بن گیا ہے، جہاں امیت شاہ اور وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما مسلسل اس مسئلے کو اٹھا رہے ہیں۔ تاہم آر ٹی آئی کے تحت حاصل معلومات نے ان دعوؤں کی بنیاد پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔

مدھیامم آن لائین کی رپورٹ کے مطابق 29 مارچ کو انتخابی جلسوں میں امیت شاہ نے ووٹروں سے اپیل کی کہ وہ آسام کو “دراندازوں سے پاک” بنانے کی کوششوں کی حمایت کریں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ ایک دہائی میں 1.25 لاکھ ایکڑ زمین “غاصبوں” سے واپس لی گئی ہے اور ایسے افراد کو شناخت کر کے ووٹر لسٹ سے نکالا جائے گا۔

اسی طرح 27 مارچ کو ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ہمنتا بسوا سرما نے کہا کہ گزشتہ پانچ سال میں 1.5 لاکھ بیگھا زمین تجاوزات سے خالی کرائی گئی ہے اور اگلی مدت میں 5 لاکھ بیگھا زمین خالی کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

تاہم جب آر ٹی آئی کارکن کنہیا کمار نے گزشتہ دس برسوں میں شناخت کیے گئے یا گرفتار “دراندازوں”، ان کی ملک بدری اور ان کے ممالک کی تفصیلات طلب کیں تو انہیں واضح ڈیٹا فراہم نہیں کیا گیا۔ چیف منسٹر سیکریٹریٹ نے درخواست کو متعلقہ محکمہ کو بھیج دیا، جس نے جواب دیا کہ یہ معلومات آسام پولیس کی بارڈر آرگنائزیشن کے پاس ہیں، جو آر ٹی آئی قانون کے تحت مستثنیٰ ہے۔

مزید برآں، وزارتِ داخلہ ہند نے بھی جنوری 2026 میں ایک اور درخواست کے جواب میں کہا کہ “دراندازوں” سے متعلق کوئی مرکزی ڈیٹا موجود نہیں، کیونکہ ان کی شناخت اور کارروائی ریاستی حکومتوں کا دائرہ اختیار ہے۔ اس صورتحال نے ایک تضاد پیدا کر دیا ہے جہاں مرکز ریاستوں کی طرف اشارہ کر رہا ہے اور ریاستی حکومت معلومات ظاہر کرنے سے گریزاں ہے، جس سے انتخابی دعوؤں کی شفافیت پر سوال اٹھ رہے ہیں۔

واضح رہے کہ آسام کی 126 رکنی اسمبلی کے لیے 9 اپریل 2026 کو ووٹنگ ہوگی جبکہ نتائج 4 مئی کو سامنے آئیں گے۔ ماہرین کے مطابق “دراندازی” کا مسئلہ اس انتخاب میں ایک اہم سیاسی ہتھیار بن چکا ہے، تاہم اس کے حقیقی اعداد و شمار کی عدم دستیابی عوامی بحث کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں