بڑی خبر: ٹرمپ نے خود کی پیٹھ تھپتھپائی! قوم سے خطاب میں امریکی صدر نے فتح کا دعویٰ کردیا ۔ جیت بھی، مزید جنگ بھی؟ متضاد بیانات پر دنیا حیران (تفصیلی خبر)

حیدرآباد (دکن فائلز ویب ڈیسک) مشرقِ وسطیٰ میں جاری امریکہ۔اسرائیل اور ایران کے درمیان شدید جنگ 34ویں دن میں داخل ہوگئی ہے، جہاں ایک طرف ٹرمپ نے جنگ میں بڑی کامیابیوں اور جلد “مشن مکمل” ہونے کا دعویٰ کیا ہے، تو دوسری جانب زمینی صورتحال اس کے برعکس ایک طویل اور پیچیدہ جنگ کی نشاندہی کر رہی ہے۔

ٹرمپ کے تازہ خطاب نے نہ صرف عالمی سطح پر بحث چھیڑ دی ہے بلکہ خود امریکہ کے اندر بھی شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔ امریکی صدر نے حبرون میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اس جنگ سے “جلد باہر نہیں نکلے گا” اور فوجی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک تمام اہداف حاصل نہیں ہو جاتے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ “ختم” ہو چکی ہے۔ فضائیہ “تباہی کے قریب” ہے، میزائل اور ڈرون صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ آپریشن ایپک راتھ ” تیزی سے اپنے اہداف حاصل کر رہا ہے اور امریکہ “پہلے سے زیادہ بڑی کامیابی” کے قریب ہے۔

تاہم اسی خطاب میں انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ آئندہ 2 سے 3 ہفتوں میں ایران پر مزید “انتہائی سخت حملے” کیے جائیں گے اور ضرورت پڑنے پر توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

ٹرمپ کے بیانات نے کئی بنیادی سوالات کو جنم دیا ہے: اگر ایران کی فوجی طاقت تقریباً ختم ہو چکی ہے تو مزید حملوں کی ضرورت کیوں؟ اگر اہداف حاصل ہونے کے قریب ہیں تو جنگ کا واضح اختتام کیوں نظر نہیں آ رہا؟

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ بیانات ایک واضح حکمت عملی کے بجائے ابہام کی عکاسی کرتے ہیں، جس سے امریکی عوام اور عالمی برادری دونوں میں بے یقینی بڑھ رہی ہے۔

ٹرمپ کے خطاب کے فوراً بعد ایران نے اسرائیل پر نئے میزائل حملے کیے، جن کے نتیجے میں تل ابیب اور اطراف کے علاقوں میں سائرن بج اٹھے۔

رپورٹس کے مطابق بنی براک میں کم از کم تین افراد زخمی ہوئے، کئی عمارتوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ اسی دوران حزب اللہ نے بھی شمالی اسرائیل پر راکٹ داغے، جس کے جواب میں اسرائیل نے جنوبی لبنان پر فضائی حملے کیے۔ یہ پیش رفت واضح کرتی ہے کہ ایران اور اس کے اتحادی اب بھی بھرپور جوابی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ایران کے صدر نے امریکی عوام کے نام ایک پیغام میں کہا کہ ایران تاریخی طور پر جارح ملک نہیں رہا اور اس کی موجودہ کارروائیاں دفاعی نوعیت کی ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ جنگ کا تسلسل پورے خطے کو طویل عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتا ہے اور سفارتی حل پر زور دیا۔

ٹرمپ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ آبنائے ہرمز کی سکیورٹی خود سنبھالے، کیونکہ امریکہ مشرق وسطیٰ کے تیل پر انحصار نہیں کرتا۔

شدید امریکی و اسرائیلی حملوں کے باوجود ایران مسلسل میزائل حملے کر رہا ہے۔ یہ حقائق اس تاثر کو کمزور کرتے ہیں کہ ایران مکمل طور پر دفاعی پوزیشن میں آ چکا ہے۔

یہاں سب سے بڑا سوال یہی اٹھ رہا ہے کہ اگر ایران کی فوجی طاقت تقریباً ختم ہو چکی ہے اور امریکہ اپنے اہداف حاصل کرنے کے قریب ہے تو پھر مزید 2–3 ہفتوں تک “شدید حملوں” کی دھمکی کیوں؟ ایران کے بجلی گھروں اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی بات کیوں؟

یہ تضاد خود امریکی اور عالمی تجزیہ کاروں کو حیران کر رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ “یا تو جنگ جیت لی گئی ہے یا ابھی بہت کچھ باقی ہے۔ دونوں باتیں ایک ساتھ کیسے درست ہو سکتی ہیں؟”

اپنا تبصرہ بھیجیں