حیدرآباد (دکن فائلز) الہ آباد ہائیکورٹ نے اتر پردیش کے ضلع بریلی میں نجی مکان پر نماز کی ادائیگی سے متعلق ایک مقدمہ کو نمٹا دیا، جس میں عدالت نے ایک طرف عرضی گزار کو محدود دائرے میں مذہبی عمل کی اجازت دی، تو دوسری طرف بڑے اجتماعات پر واضح پابندی عائد کرتے ہوئے ریاستی حکام کو قانون کے مطابق کارروائی کی مکمل آزادی دی۔
واضح رہے کہ بریلی کے رہائشی طارق خان نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے الزام لگایا کہ انہیں اپنے رشتہ دار حسین خان کے نجی مکان میں نماز ادا کرنے سے روکا جا رہا ہے۔ اس درخواست میں بنیادی سوال یہ تھا کہ آیا کسی نجی رہائش گاہ پر باجماعت نماز ادا کی جائے تو کیا وہ “امن و امان” کے لیے خطرہ بن سکتی ہے؟
یہ تنازع 16 جنوری 2026 کو شدت اختیار کر گیا تھا، جب مقامی انتظامیہ نے طارق خان اور دیگر افراد کے خلاف پولیس چالان جاری کیا۔ اس وقت دعویٰ کیا گیا کہ نجی مکان پر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو کر نماز ادا کر رہے تھے، جس سے علاقہ کے امن و سکون پر اثر پڑ سکتا ہے۔
بعد ازاں، 11 مارچ کو عدالت نے حسین خان کی درخواست پر ان کے مکان اور خاندان کی حفاظت کے لیے سکیورٹی فراہم کرنے کا حکم دیا تھا، کیونکہ انہوں نے اپنی جان و مال کو خطرہ ظاہر کیا تھا۔
مقدمہ اس وقت نیا موڑ اختیار کر گیا جب ریاست کی جانب سے پیش ہونے والے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل انوپ تریویدی نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ سکیورٹی کا غلط استعمال ہو رہا ہے، روزانہ 52 سے 62 افراد اس مکان پر نماز ادا کر رہے ہیں، یہ عمل علاقے کے امن و امان کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
ریاست نے اپنے دعوے کے ثبوت کے طور پر تصاویر بھی عدالت میں پیش کیں، جنہیں ضلع مجسٹریٹ اور ایس ایس پی کے حلف ناموں کے ساتھ ریکارڈ پر رکھا گیا۔
سماعت کے دوران عرضی گزار کے وکیل نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ طارق خان آئندہ نجی مکان پر بڑی تعداد میں لوگوں کو جمع نہیں کریں گے۔ عدالت نے اس یقین دہانی کو ریکارڈ پر لیتے ہوئے کہا کہ اگر اس وعدے کی خلاف ورزی ہوتی ہے اور علاقہ کے امن و سکون کو خطرہ لاحق ہوتا ہے تو ریاستی حکام قانون کے مطابق فوری کارروائی کر سکتے ہیں۔
دو رکنی بنچ، جس میں جسٹس سارل سریواستو اور جسٹس گریما پرشاد شامل تھیں، نے اپنے حکم میں درج ذیل اہم فیصلے سنائے:
پولیس چالان کی واپسی: 16 جنوری 2026 کا چالان فوری طور پر واپس لیا جائے
سکیورٹی ختم: حسین خان کو دی گئی سکیورٹی فوری ختم کی جائے
توہین عدالت نوٹس ختم: بریلی کے ڈی ایم اور ایس ایس پی کے خلاف جاری توہین عدالت نوٹس ختم کر دیا گیا
ایک طرف عدالت نے نجی املاک پر مذہبی آزادی کو تسلیم کیا مگر اسے “امن و امان” کے دائرے سے مشروط کر دیا اور واضح کیا کہ مذہبی اجتماع اگر عوامی نظم کو متاثر کرے تو ریاست مداخلت کر سکتی ہے۔
یہ خبر بھی پڑھیں:


