حیدرآباد (دکن فائلز) اترپردیش کے بھوپا تھانہ علاقہ میں مساجد سے متعلق جاری تنازع میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں الہ آباد ہائیکورٹ کے حکم پر عمر مسجد کی سیل کھول دی گئی ہے، جبکہ دیگر دو مساجد کے معاملات تاحال عدالت میں زیرِ سماعت ہیں۔
اطلاعات کے مطابق رحمانیہ کالونی میں واقع مسجد عمر اور مسجد رحمانیہ کو تقریباً دو ماہ قبل ضلع انتظامیہ اور پولیس نے بغیر اجازت تعمیر کے الزام میں سیل کر دیا تھا۔ اس کارروائی پر مقامی افراد اور مسجد انتظامیہ کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا تھا۔
مسجد انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ دونوں مساجد تقریباً 10 سال قبل نجی زمین پر تعمیر کی گئی تھیں، زمین کے باقاعدہ کاغذات (بیع نامہ) موجود ہیں اور سیل کرنے سے قبل کوئی پیشگی نوٹس نہیں دیا گیا۔
مسجد انتظامیہ اور مقامی افراد نے معاملہ عدالت میں لے جانے کے بعد ہائی کورٹ سے رجوع کیا، جہاں سماعت کے دوران عدالت نے عمر مسجد کی سیل کھولنے کا حکم جاری کیا۔ اس حکم پر عمل کرتے ہوئے انتظامیہ نے مسجد کو دوبارہ کھول دیا، جس سے علاقے کے مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
تاہم رحمانیہ مسجد کا کیس ابھی زیرِ سماعت ہے۔ وہیں مدینہ کالونی میں زیر تعمیر مدینہ مسجد بھی تنازع کا شکار ہے۔ مدینہ مسجد کے معاملے میں پولیس نے بغیر اجازت تعمیر کا الزام عائد کرتے ہوئے مقدمہ درج کیا گیا اور متولی سمیت ایک اور شخص کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ اس کارروائی سے قبل انہیں کوئی نوٹس نہیں دیا گیا۔
سابق پردھان محمد اظہار نے انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کارروائی اچانک اور غیر منصفانہ تھی، حتیٰ کہ امام کو بھی حراست میں لیا گیا۔ فی الحال علاقے میں صورتحال حساس بتائی جا رہی ہے اور عوام کی نظریں ہائی کورٹ کے آئندہ فیصلوں پر مرکوز ہیں، جو دیگر مساجد کے مستقبل کا تعین کریں گے۔
عمر مسجد سے متعلق مثبت فیصلے نے مقامی افراد میں یہ امید پیدا کر دی ہے کہ باقی معاملات میں بھی انصاف ملے گا۔


