حیدرآباد (دکن فائلز) اوڈیشہ میں ایک مسلم نوجوان پر ہونے والے انتہائی سنگین اور انسانیت سوز حملے کے معاملے میں اوڈیشہ ہائی کورٹ نے اہم مداخلت کرتے ہوئے تحقیقات کی نگرانی کیلئے سینئر پولیس افسر مقرر کرنے کا حکم دیا ہے۔
بار اینڈ بنچ کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ رواں سال جنوری کے اوائل میں پیش آیا، جب ایک گروہ نے ایک مسلم شخص کو نشانہ بنایا۔ حملہ آوروں نے نہ صرف اس پر تشدد کیا بلکہ اس کے کپڑے اتار دیے، اس کی ٹانگیں رسی سے باندھ کر سڑک پر گھسیٹا اور اسے زبردستی مذہبی نعرہ “جے ایس آر” لگانے پر مجبور کیا۔
اس افسوسناک واقعہ کی ویڈیو بھی بنائی گئی جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جس کے بعد معاملہ مزید سنگین ہو گیا۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد 3 جنوری کو ایف آئی آر درج کی گئی۔
یہ معاملہ عدالت تک اس وقت پہنچا جب متاثرہ شخص کے والد نے درخواست دائر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ کیس کی تفتیش کسی آزاد ایجنسی، جیسے کرائم برانچ یا اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم، کے حوالے کی جائے۔ درخواست میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ ایف آئی آر میں سنگین دفعات شامل نہیں کی گئیں اور مزید سخت دفعات کا اضافہ کیا جانا چاہیے۔
سماعت کے دوران جسٹس جسٹس ساوتری راتو نے واقعے کی نوعیت اور ویڈیو کے وائرل ہونے کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا کہ شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کیلئے ضروری ہے کہ کیس کی نگرانی کسی سینئر افسر کے ذریعے کی جائے۔ عدالت نے حکم دیا کہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس یا اس سے اوپر کے رینک کا افسر اس تفتیش کی نگرانی کرے۔
ریاستی پولیس کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ متاثرہ شخص کو معمولی نوعیت کی چوٹیں آئیں اور اب تک دو ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے۔
عدالت نے اگرچہ تفتیش کسی دوسری ایجنسی کو منتقل نہیں کی، تاہم سینئر افسر کی نگرانی میں تحقیقات جاری رکھنے کی ہدایت دیتے ہوئے واضح کیا کہ کیس کی حساسیت کے پیش نظر مکمل شفافیت اور انصاف کو یقینی بنایا جائے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر ایسے حملوں پر سوال کھڑے کرتا ہے جن میں مذہبی بنیادوں پر تشدد اور زبردستی نعرے لگوانے جیسے واقعات سامنے آ رہے ہیں، جس پر ملک بھر میں تشویش پائی جا رہی ہے۔


