حیدرآباد (دکن فائلز) بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سابق ڈائریکٹر جنرل محمد البرادعی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف حالیہ سخت بیانات اور 48 گھنٹوں کے الٹی میٹم پر شدید ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو مشرقِ وسطیٰ ایک بڑے تباہ کن تصادم کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر جاری اپنے بیان میں البرادعی نے خلیجی ممالک سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر فعال کردار ادا کریں اور خطے کو جنگ کے دہانے پر جانے سے بچائیں۔ انہوں نے کہا کہ “براہِ کرم، اپنی پوری طاقت استعمال کریں، اس سے پہلے کہ یہ پاگل شخص خطے کو آگ کا گولہ بنا دے۔”
انہوں نے اپنی اپیل کو مزید وسعت دیتے ہوئے اقوام متحدہ، انتونیو گوتیریس، یورپی قیادت، فرانس، چین اور روس سمیت عالمی طاقتوں سے بھی فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی ادارے اور طاقتیں اس ممکنہ بحران کو روکنے کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کریں۔
یہ ردعمل ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر 48 گھنٹوں کے اندر معاہدہ نہ کیا گیا یا آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہ کھولا گیا تو ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے، پاور پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر ایک جارحانہ بیان میں کہا تھا کہ “وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے، اگر ایران نے فوری اقدام نہ کیا تو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔” انہوں نے اس سے قبل بھی ایران کو 10 دن کا الٹی میٹم دیا تھا، جس کے بعد اب 48 گھنٹوں کی نئی ڈیڈلائن نے صورتحال کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکی الزامات اور دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس نے کسی قسم کی جنگ بندی یا مذاکرات کی درخواست نہیں کی۔ تہران کا مؤقف ہے کہ امریکہ جنگ بندی اور سفارتکاری کی آڑ میں خطے میں اپنی عسکری کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔


