بڑی خبر: آج رات ایک پوری ’قوم‘ مٹ سکتی ہے! ٹرمپ کی ایران کو سنگین وارننگ، دنیا بھر میں تشویش لہر

حیدرآباد (دکن فائلز) امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے ایک نہایت سنگین اور چونکا دینے والا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ “آج رات ایک پوری تہذیب (قوم) صفحہ ہستی سے مٹ سکتی ہے”، جس کے بعد عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ وہ ایسا نہیں چاہتے، لیکن موجودہ حالات اس طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ ایسا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اس لمحے کو دنیا کی تاریخ کے اہم ترین لمحات میں سے ایک قرار دیا۔

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران میں مکمل “رجیم چینج” ہو چکا ہے اور اب وہاں نسبتاً کم شدت پسند اور زیادہ سمجھدار قیادت موجود ہے، جس کے نتیجے میں مستقبل میں مثبت تبدیلی آ سکتی ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے معاملے پر آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، اور اس کی بندش نے عالمی توانائی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

ٹرمپ نے ایران کو اس گزرگاہ کو کھولنے کے لیے پہلے 48 گھنٹوں کی مہلت دی تھی، جسے بعد میں کئی بار بڑھایا گیا۔ تازہ ترین ڈیڈ لائن 7 اپریل مقرر کی گئی ہے، تاہم اس میں بھی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے مقررہ وقت تک آبنائے ہرمز نہ کھولی تو اس کے توانائی کے ڈھانچے پر شدید حملے کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ آخری لمحے میں کارروائی روکنے کا فیصلہ بھی کیا جا سکتا ہے، جس سے سفارتی پیچیدگیوں کا عندیہ ملتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ کے بیانات اور بار بار ڈیڈ لائن میں توسیع اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پس پردہ سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں، لیکن صورتحال انتہائی نازک اور غیر یقینی ہے۔ دنیا بھر کی نظریں اب 7 اپریل کی ڈیڈ لائن اور امریکہ کے اگلے قدم پر مرکوز ہیں، کیونکہ کسی بھی ممکنہ تصادم کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں