حیدرآباد (دکن فائلز) امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف مجوزہ حملوں سے عین قبل بڑا یوٹرن لیتے ہوئے دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت کی براہِ راست مداخلت کے بعد سامنے آیا۔
صدر ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے یہ فیصلہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ہونے والی بات چیت کے بعد کیا، جنہوں نے انہیں ایران پر حملے روکنے کی درخواست کی تھی۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ وہ ایران کے خلاف طے شدہ فوجی کارروائی کو دو ہفتوں کے لیے معطل کر رہے ہیں، بشرطیکہ ایران آبنائے ہرمز کو مکمل، فوری اور محفوظ طور پر کھولنے پر آمادہ ہو۔ انہوں نے اس جنگ بندی کو “دو طرفہ سیزفائر” قرار دیا۔
امریکی صدر کے مطابق امریکہ اپنے زیادہ تر فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے اور ایران کے ساتھ طویل مدتی امن معاہدے کے لیے پیش رفت ہو چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران کی جانب سے پیش کردہ دس نکاتی تجویز کو مذاکرات کے لیے ایک قابلِ عمل بنیاد سمجھا جا رہا ہے اور آئندہ دو ہفتوں میں حتمی معاہدہ طے پانے کی امید ہے۔
دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے بھی جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران پر حملے بند کر دیے جائیں تو ایرانی افواج بھی اپنی دفاعی کارروائیاں روک دیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ دو ہفتوں کے دوران آبنائے ہرمز میں جہاز رانی ایران کی مسلح افواج کے تعاون سے ممکن ہوگی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے یہ جنگ بندی چین کے دباؤ اور سفارتی مداخلت کے بعد قبول کی۔ اطلاعات ہیں کہ ایران کی نئی اعلیٰ قیادت، بشمول سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے بھی اس فیصلے کی منظوری دی۔
واضح رہے کہ اس سے چند گھنٹے قبل صدر ٹرمپ نے سخت دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو “ایک پوری تہذیب آج رات ختم ہو سکتی ہے”، تاہم بعد میں انہوں نے مذاکرات کی امید بھی ظاہر کی تھی۔
28 فروری سے جاری اس تنازع میں اب تک ایران میں 1900 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ لبنان میں ایران کے حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ کے ساتھ اسرائیل کی جھڑپوں میں 1500 سے زائد افراد جاں بحق اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔ اسرائیل میں بھی ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں، جبکہ امریکی فوج کے 13 اہلکار بھی اس جنگ میں مارے جا چکے ہیں۔


