مسلم پرسنل لا بورڈ کے رہنما نور احمد اظہری کے خلاف مقدمہ ختم کرنے سے الہ آباد ہائی کورٹ کا انکار

حیدرآباد (دکن فائلز) الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رہنما نور احمد اظہری کے خلاف درج فوجداری مقدمہ ختم کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے، جس کے بعد ملک بھر کے مسلمانوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔

بار اینڈ بنچ کی رپورٹ کے مطابق جسٹس سوربھ سریواستو نے 16 مارچ کو سنائے گئے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ اس مرحلہ پر مقدمہ ختم نہیں کیا جا سکتا کیونکہ پولیس کی جانب سے پیش کردہ الزامات بادی النظر ایک قابلِ سماعت کیس کی نشاندہی کرتے ہیں۔

یہ معاملہ 2023 کی ایک مبینہ ویڈیو سے جڑا ہے، جس میں نور احمد اظہری کو مبینہ طور پر عتیق احمد اور ان کے بھائی اشرف احمد کے قتل پر تبصرہ کرتے ہوئے سنا گیا۔ دونوں کو اپریل 2023 میں پریاگ راج میں پولیس کی موجودگی میں اس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا جب انہیں طبی معائنے کے لیے لے جایا جا رہا تھا۔ یہ دونوں افراد وکیل امیش پال کے قتل کے مقدمہ میں زیرِ حراست تھے، جو 2005 کے راجو پال قتل کیس کے گواہ تھے۔ امیش پال کو فروری 2023 میں قتل کر دیا گیا تھا، جس کے بعد پولیس نے عتیق احمد، ان کے اہلِ خانہ اور دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔

ویڈیو میں مبینہ طور پر نور احمد اظہری نے دعویٰ کیا تھا کہ عتیق اور اشرف کو عمر قید کی سزا کے باوجود ایک سازش کے تحت قتل کیا گیا اور اس کا الزام یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت والی حکومت پر عائد کیا۔ انہوں نے مبینہ طور پر یہ بھی کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے “آئین کو پامال کیا ہے”۔

اس بیان کے بعد ضلع پیلی بھیت کے پورن پور تھانہ میں ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔ ابتدائی طور پر فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے اور مذہبی جذبات مجروح کرنے کی دفعات شامل کی گئیں، بعد ازاں تعزیراتِ ہند کی دفعہ 505(2) کے تحت چارج شیٹ داخل کی گئی، جو مختلف طبقات کے درمیان نفرت یا دشمنی کو ہوا دینے سے متعلق ہے۔

نور احمد اظہری نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کے بیانات ایک عوامی مباحثے کے دوران دیے گئے تھے اور وہ دفعہ 505(2) کے دائرے میں نہیں آتے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ تفتیش غیر منصفانہ تھی اور مجسٹریٹ نے شواہد کا مناسب جائزہ لیے بغیر انہیں طلب کر لیا۔ درخواست گزار کی جانب سے عدالت میں موقف اختیار کیا گیا کہ ان کے خلاف درج مقدمہ بے بنیاد ہے اور اسے منسوخ کیا جانا چاہیے، کیونکہ یہ آزادیٔ اظہار کے دائرے میں آتا ہے۔

ہائی کورٹ نے ان دلائل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس مرحلے پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کوئی مقدمہ بنتا ہی نہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ شواہد کی مکمل جانچ ٹرائل کورٹ میں ہوگی، اس لیے مقدمہ جاری رہے گا۔

واضح رہے کہ نور احمد اظہری کو اس سے قبل بھی مدرسوں کے خلاف کارروائی پر تنقیدی بیانات دینے کے معاملے میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے یوگی آدتیہ ناتھ حکومت پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ مدرسوں کے خلاف مہم چلا رہی ہے، خاص طور پر اس وقت جب ایک ایس آئی ٹی رپورٹ میں ریاست کے تقریباً 13 ہزار مدرسوں کو غیر قانونی قرار دینے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ملک میں مسلمانوں کے مذہبی اور شخصی قوانین کے تحفظ کے لیے ایک اہم ادارہ ہے۔ یہ بورڈ نکاح، طلاق، وراثت اور دیگر خاندانی معاملات میں رہنمائی فراہم کرتا ہے اور مختلف قانونی و سماجی مسائل پر مسلمانوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ بورڈ میں ملک کے ممتاز علماء، ماہرینِ قانون اور سماجی شخصیات شامل ہیں، جو اجتماعی طور پر مسلم کمیونٹی کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم رہتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں