مالیگاؤں دھماکہ کیس میں بری ہونے والے کرنل پروہت کو بریگیڈیئر عہدہ پر ترقی دی گئی

حیدرآباد (دکن فائلز) ہندوستانی فوج کے افسر کرنل پرساد شریکانت پروہت کو بریگیڈیئر کے عہدہ پر ترقی دینے کی منظوری دے دی گئی ہے، جس کے بعد وہ کم از کم مزید دو سال تک فوجی خدمات انجام دیں گے۔ واضح رہے کہ مقدمہ کی وجہ سے پروہت کو تقریباً 17 برس پروموشن نہیں دیا گیا تھا۔

2016 میں این آئی اے نے واضح کیا تھا کہ لیفٹیننٹ کرنل پروہت مکہ مسجد بم دھماکہ کیس میں ملوث نہیں تھے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی جب آرمڈ فورسس ٹریبونل نے مارچ 2026 میں ان کی ریٹائرمنٹ کو عارضی طور پر روک دیا تھا۔ ان کی ریٹائرمنٹ 31 مارچ 2026 کو متوقع تھی، تاہم ٹریبونل نے حکم دیا کہ ان کے ترقی سے متعلق کیس کا فیصلہ ہونے تک انہیں سروس میں برقرار رکھا جائے۔

کرنل پروہت اس سے قبل مکمل کرنل کے عہدے پر ترقی حاصل کرنے سے محروم رہے تھے اور ٹائم اسکیل کے تحت کرنل بنے تھے، جس کے تحت انہیں 54 سال کی عمر میں ریٹائر ہونا تھا۔ تاہم اب بریگیڈیئر کے عہدے پر ترقی کے بعد ان کی ریٹائرمنٹ کی عمر 56 سال ہو گئی ہے، جس سے انہیں مزید دو سال سروس کا موقع ملے گا۔ ذرائع کے مطابق اس ترقی کے بعد انہیں دیگر بریگیڈیئرز کی طرح کیریئر میں آگے بڑھنے کے تمام مواقع حاصل ہوں گے اور مستقبل میں وہ مزید اعلیٰ عہدوں، حتیٰ کہ میجر جنرل تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ 31 جولائی 2025 کو مہاراشٹر میں ایک خصوصی این آئی اے عدالت نے پروہت کو مالیگاؤں بم دھماکہ کیس میں تمام الزامات سے بری کر دیا تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں شواہد کی کمی اور استغاثہ کے بیانیہ میں تضادات کو بنیاد بنایا تھا۔ بریت کے بعد ستمبر 2025 میں انہیں مکمل کرنل کے عہدے پر ترقی دی گئی، جس سے ان کے کیریئر کی جزوی بحالی ہوئی۔

کرنل پروہت کو 2008 کے مالیگاؤں دھماکوں کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا اور تقریباً 9 سال تک وہ جیل میں رہے۔ 2017 میں ضمانت پر رہائی کے بعد انہوں نے دوبارہ سروس جوائن کی، تاہم جولائی 2020 تک وہ معطل رہے۔ اس کے بعد بھی ان پر ڈسپلن اینڈ ویجیلنس پابندی برقرار رہی، جس کے باعث 2021 میں ان کی ترقی روک دی گئی۔ انہوں نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ 17 سالہ مقدمہ نے ان کے بنیادی حقوق متاثر کیے اور انہیں ترقی کے منصفانہ مواقع سے محروم رکھا۔

بم دھماکہ 29 ستمبر 2008 کو مہاراشٹر کے شہر مالیگاؤں میں پیش آیا، جہاں ایک موٹر سائیکل میں نصب بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 6 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ اسی دن گجرات کے شہر موڈاسا میں بھی ایک بم دھماکہ ہوا تھا، جسے اس کیس سے جوڑا گیا۔ابتدائی تحقیقات میں اس حملے کا الزام شدت پسند ہندو تنظیموں سے وابستہ افراد پر عائد کیا گیا۔ کیس میں متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں کرنل پروہت بھی شامل تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں