مسجد اقصیٰ میں ایک لاکھ فرزندان توحید نے جمعہ کی نماز ادا کی، روح پرور منظر، بیت المقدس کی روحانی عظمت ایک بار پھر نمایاں

حیدرآباد (دکن فائلز) دنیا بھر کے مسلمانوں کےلئے مقدس مسجد اقصیٰ کو ظالم اسرائیلی حکام نے تقریباً 40 روز بعد دوبارہ مسلمانوں کےلئے کھول دیا۔ جنگ بندی کے بعد بیت المقدس میں ایک روح پرور منظر دیکھنے میں آیا، جہاں ایک لاکھ سے زائد مسلمانوں نے جمعہ کی نماز ادا کی۔

یہ مقام اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے، جہاں نماز ادا کرنا مسلمانوں کے لیے انتہائی فضیلت کا باعث سمجھا جاتا ہے۔ مسجد اقصیٰ نہ صرف مسلمانوں کا قبلۂ اول ہے بلکہ یہ وہ تاریخی مقام بھی ہے جہاں سے نبی کریم ﷺ نے معراج کا سفر آغاز فرمایا۔

28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے باعث مقدس مقامات بند کر دیے گئے تھے، تاہم ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد انہیں دوبارہ کھول دیا گیا۔ اسلامی وقف کے مطابق جمعہ کے روز ایک لاکھ سے زائد نمازیوں نے مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کی، جو اس بات کی علامت ہے کہ تمام تر مشکلات کے باوجود مسلمانوں کا اس مقدس مقام سے روحانی تعلق قائم ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک نمازی محمد سعیدہ نے کہاکہ “ہم امید کرتے ہیں کہ مسجد اقصیٰ کو دوبارہ بند نہیں کیا جائے گا اور ہر شخص یہاں آ سکے گا، چاہے وہ یروشلم سے ہو یا مغربی کنارے سے۔” جبکہ ایک اور نمازی شریف محمد نے کہاکہ “جمعہ کی نماز فرض ہے، لیکن مسجد اقصیٰ میں اسے ادا کرنا ایک بالکل مختلف اور روحانی تجربہ ہے۔”

اپنا تبصرہ بھیجیں