اسلام آباد میں ایران-امریکہ تاریخی مذاکرات کا آغاز: ایرانی وفد کے طیارے میں شہید بچوں کی تصاویر اور خون آلود بستے

حیدرآباد (دکن فائلز) اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان انتہائی اہم اور تاریخی مذاکرات کا باضابطہ آغاز ہو گیا ہے، تاہم ان مذاکرات سے قبل ایک جذباتی منظر اس وقت سامنے آیا جب ایرانی وفد کے طیارے سے شہید بچوں کی تصاویر منظر عام پر آئیں۔

ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے پاکستان کے سفر کے دوران سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک تصویر شیئر کی، جس میں طیارے کی خالی نشستوں پر ایرانی بچوں کی تصاویر، بستے، جوتے اور پھول رکھے گئے تھے۔ یہ منظر ان معصوم بچوں کی یاد میں پیش کیا گیا جو حالیہ حملے میں شہید ہوئے۔

قالیباف نے اپنی پوسٹ میں لکھاکہ ’یہ میرے ہم سفر ہیں‘، جو اس سانحے کی شدت اور ایرانی قیادت کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ تصاویر میناب میں ایک اسکول پر ہونے والے ہولناک حملے میں جاں بحق بچوں کی یاد میں رکھی گئی تھیں۔ اس حملے میں 160 سے زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جن میں بڑی تعداد معصوم طلبہ کی تھی۔ اس واقعے نے ایران بھر میں شدید غم و غصہ پیدا کیا ہے اور عالمی سطح پر بھی اس کی مذمت کی جا رہی ہے۔

ایرانی وفد اہم سفارتی مشن کے تحت اسلام آباد پہنچ چکا ہے، جس کی قیادت محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی ان کے ہمراہ ہیں۔ ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکہ سنجیدہ اور منصفانہ معاہدہ پیش کرتا ہے اور ایرانی عوام کے حقوق کو تسلیم کرتا ہے تو ایران بھی مثبت پیش رفت کے لیے تیار ہے، بصورت دیگر کسی بھی غیر سنجیدہ رویے کا سخت جواب دیا جائے گا۔

دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی اپنے وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ ان کے ساتھ سابق صدر کے داماد اور مشرقِ وسطیٰ امور کے ماہر جریڈ کشنر اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹآف بھی شامل ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات کے لیے ایک مضبوط اور اعلیٰ سطحی ٹیم بھیجی گئی ہے، جو خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سنجیدہ ہے۔

یہ مذاکرات ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک اہم سنگ میل سمجھے جا رہے ہیں، جن کی میزبانی پاکستان کر رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں