حیدرآباد (دکن فائلز) اتر پردیش کے شہر میرٹھ میں ایک انتہائی افسوسناک اور لرزہ خیز واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک 76 سالہ شخص مبینہ طور پر اپنی بیٹی کی لاش کے ساتھ پانچ ماہ تک ایک ہی گھر میں رہتا رہا۔
پولیس کے مطابق متوفیہ کی شناخت پریانکا بسواس کے طور پر ہوئی ہے، جو اعلیٰ تعلیم یافتہ تھیں، انہوں نے ڈبل ایم اے اور ایم ٹیک کیا تھا اور ایک آئی ٹی پروفیشنل کے طور پر کام کر چکی تھیں۔ ان کی لاش گھر کے ایک کمرے میں بستر پر اس حالت میں ملی کہ وہ مکمل طور پر گل سڑ کر ڈھانچے (اسکلیٹن) میں تبدیل ہو چکی تھی اور اسے کپڑے سے ڈھانپا گیا تھا، جیسے وہ سو رہی ہوں۔
پولیس نے ان کے والد اُدے بھانو بسواس کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ شروع کر دی ہے، جو محکمہ تعلیم کے ریٹائرڈ کلرک ہیں۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک رشتہ دار نے ان سے پریانکا کے بارے میں سوال کیا۔ ابتدا میں انہوں نے بتایا کہ ان کی بیٹی دہرادون میں زیر علاج ہے، تاہم مسلسل سوالات پر انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ گھر میں ہی موجود ہے۔ جب رشتہ دار گھر پہنچے تو شدید بدبو محسوس ہوئی۔ کمرے کی تلاشی لینے پر وہ اس وقت سکتے میں آ گئے جب بستر پر پریانکا کی ہڈیوں کا ڈھانچہ پایا گیا، جس کے بعد فوراً پولیس کو اطلاع دی گئی۔
پولیس نے لاش کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ہے تاکہ موت کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔ گھر کی تلاشی کے دوران متعدد پرفیوم کی بوتلیں بھی ملی ہیں، جن کے بارے میں شبہ ہے کہ بدبو کو چھپانے کے لیے استعمال کی جا رہی تھیں۔
حکام کے مطابق پریانکا کی موت تقریباً پانچ ماہ قبل ہوئی تھی اور وہ آخری بار 5 دسمبر کو دیکھی گئی تھیں۔ اس کے بعد سے نہ وہ کسی سے ملیں اور نہ ہی ان کے والد نے کسی سے رابطہ کیا۔ پولیس کے مطابق پریانکا اپنی والدہ شرمشتا کی 13 سال قبل وفات کے بعد تنہائی کی زندگی گزار رہی تھیں۔ خاندان کا تعلق مغربی بنگال سے بتایا جاتا ہے۔
یہ بھی اطلاعات ہیں کہ وہ کسی بیماری میں مبتلا تھیں اور ممکنہ طور پر ایک مذہبی شخصیت سے علاج کروا رہی تھیں۔ پولیس اس پہلو کی بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا اس معاملے میں کوئی مجرمانہ عنصر موجود ہے یا یہ محض ذہنی دباؤ اور حالات کا نتیجہ ہے۔
پولیس کے مطابق ’پورے معاملے کی گہرائی سے تحقیقات جاری ہیں، اور حقائق سامنے آنے پر مناسب کارروائی کی جائے گی۔‘


