بڑی خبر: اردغان کا نتین یاہو کو کھلا انتباہ: اسرائیل پر حملہ کرنے کی دھمکی دے دی، فلسطینی قیدیوں کے لیے سزائے موت کے فیصلہ پر ترکی کی سخت تنقید، جنگ میں مزید شدت کا خدشہ (ویڈیو دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز ویب ڈیسک) ترکی کے صدر طیب اردغان نے اسرائیل کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر جاری سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو ترکی اسرائیل کے خلاف فوجی کارروائی کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔ ان کے اس بیان نے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔

ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اردغان نے اسرائیلی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور وزیر اعظم نتین یاہو کو “خون اور نفرت میں اندھا” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ “جیسے ہم لیبیا اور کاراباخ میں داخل ہوئے تھے، ویسے ہی اسرائیل میں بھی داخل ہو سکتے ہیں۔”

ترک صدر نے اسرائیل کی جانب سے فلسطینی قیدیوں کے لیے سزائے موت کے فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے نازی دور کی پالیسیوں سے تشبیہ دی۔ ان کا کہنا تھا کہ “یہ اقدام قانون کو نسل پرستانہ فاشزم کا آلہ کار بنا دیتا ہے۔”

انہوں نے غزہ اور لبنان کی صورتحال پر بھی گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں شہری، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسی طرح لبنان میں حملوں کے باعث لاکھوں افراد بے گھر ہوئے جبکہ سینکڑوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

اردغان نے دعویٰ کیا کہ جنگ بندی کے اعلان کے دن بھی اسرائیل نے لبنان میں درجنوں شہریوں کو نشانہ بنایا، جو امن کوششوں کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “یہ نسل کشی کا سلسلہ فوری طور پر رکنا چاہیے۔”

ترک صدر نے یہ بھی کہا کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں پاکستان ثالثی کا کردار ادا نہ کر رہا ہوتا تو ترکی پہلے ہی اسرائیل کے خلاف سخت اقدامات اٹھا چکا ہوتا۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم نتین یاہو نے اردغان کے بیانات کا سخت جواب دیتے ہوئے ترکی پر ایران اور اس کے اتحادی گروہوں کی حمایت کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایران اور اس کے “پراکسی نیٹ ورک” کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کرٹس نے بھی ترکی پر یہود مخالف بیانات دینے کا الزام لگایا، جبکہ ترک وزارت خارجہ نے جوابی بیان میں نیتن یاہو کو “موجودہ دور کا ہٹلر” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی پالیسیاں عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ترکی اور اسرائیل کے درمیان یہ لفظی جنگ اب ایک سنگین سفارتی بحران میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے، جس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ صورتحال اس وقت انتہائی نازک ہے اور آئندہ دنوں میں کسی بھی بڑے پیشرفت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں