حیدرآباد (دکن فائلز ویب ڈیسک) اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گویر نے اتوار کے روز سخت سکیورٹی میں مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہو کر ایک بار پھر کشیدگی کو ہوا دے دی، جس پر فلسطینی قیادت اور اردن نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔
عینی شاہدین اور محکمہ اوقاف کے مطابق بن گویر انتہا پسند آباد کاروں اور نام نہاد ہیکل تنظیموں کے افراد کے ہمراہ باب المغاربہ کے راستے مسجد میں داخل ہوئے، جہاں انہوں نے قبۃ الصخرہ کے اطراف تلمودی رسومات ادا کیں اور بعد ازاں باب السلسلہ سے باہر نکل گئے۔
حکام کے مطابق بن گویر نے 2023 میں عہدہ سنبھالنے کے بعد اب تک 156 مرتبہ مسجد اقصیٰ میں داخل ہو کر مبینہ بے حرمتی کی ہے۔ تازہ واقعہ نماز فجر کے بعد پیش آیا جب فلسطینی نمازیوں کو مسجد سے نکال کر آباد کاروں کے داخلے کی راہ ہموار کی گئی۔
رپورٹس کے مطابق اب مسجد میں داخلے کے اوقات کو بڑھا کر صبح 6:30 سے 11:30 اور دوپہر 1:30 سے 3 بجے تک کر دیا گیا ہے، جسے فلسطینی حکام نے خطرناک اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔ بن گویر نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ وہ یہودی عبادت گزاروں کے لیے زیادہ سے زیادہ رسائی اور نماز کی اجازت چاہتے ہیں، اور خود کو اس مقام پر “مالک” محسوس کرتے ہیں۔ ان کے اس بیان نے مزید تنازع کھڑا کر دیا ہے۔
اردن کی وزارت خارجہ نے اس اقدام کو مسجد اقصیٰ کی تاریخی حیثیت اور موجودہ اسٹیٹس کو کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی ہے۔ فلسطینی صدر محمود عباس کے دفتر نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ دہائیوں پرانے انتظام کے تحت مسجد اقصیٰ اردن کے زیر انتظام اسلامی اوقاف کے ماتحت ہے، جہاں غیر مسلموں کو صرف وزٹ کی اجازت ہے، عبادت کی نہیں۔ اس پالیسی میں کسی بھی تبدیلی نے ماضی میں شدید ردعمل اور تشدد کو جنم دیا ہے۔


