حیدرآباد (دکن فائلز) عقیدۂ ختمِ نبوت اسلام کے بنیادی اور قطعی عقائد میں سے ہے، جس پر ہر مسلمان کا ایمان ہونا ضروری ہے۔ اسی عقیدے کے تحفظ اور اس کی صحیح تعلیمات کے فروغ کے لیے علمائے کرام کی مسلسل کاوشیں جاری ہیں۔ اسی سلسلے میں فرسٹ لانسر، نامپلی کے ایک تعلیمی ادارے میں پیش آنے والا واقعہ نہ صرف قابلِ توجہ ہے بلکہ اس میں ایک مثبت اور اصلاحی پہلو بھی سامنے آیا ہے۔
مولانا مفتی غلام محمد نوید قاسمی صدر مجلس تحفظ ختم نبوت حلقہ نام پلی کے بموجب ریاستی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹرسٹ تلنگانہ وآندھراپردیش کے مقامی یونٹ مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت حلقہ نامپلی کے زون فرسٹ لانسر کے ایک تعلیمی ادارہ میں برسرِ خدمت جھارکھنڈ کے متوطن ایک ٹیچر فتنۂ گوہر شاہی سے وابستہ تھے اور سلوک و تصوف کے نام پر طلبا اور عام مسلمانوں کو گمراہ اور ایمان سے برگشتہ کرنے کی کوشش و سازش کی جا رہی تھی۔
فرسٹ لانسر زون کے سیکرٹری مولانا مفتی محمد عقیل یونس قاسمی کو اس کی اطلاع ملنے پر انھوں نے مقامی یونٹ مجلس تحفظ ختم نبوت حلقہ نامپلی کے علماء و حفاظ سے فوری مشاورت کی، اس کے بعد متاثرہ ٹیچر سے ملاقات کا فیصلہ کیا گیا، ریاستی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹرسٹ کے دفتر کو اس صورت حال کا علم ہونے پر مولانا محمد ارشد علی قاسمی سیکرٹری ریاستی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹرسٹ نے مولانا محمد وجیہ الدین قاسمی مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت کو فرسٹ لانسر روانہ کیا، بعدعشاء علماء و حفاظ متعلقہ تعلیمی ادارہ پہنچے۔
یہاں مولانا مفتی محمد عقیل یونس قاسمی نے طلبا کے سامنے قرآن کریم اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں فتنۂ گوہر شاہی کی حقیقت، اس کے باطل نظریات اور گمراہ دعووں کو واضح کیا، بعد ازاں طلبہ سے سوالات کیے گئے تو انہوں نے اسی ٹیچر کی نشاندہی کی جس نے “مہدی” اور “ذکر” کے عنوان سے گفتگو کی تھی علماء کرام نے طلبہ کے سامنے صحیح اسلامی عقائد کی مزید وضاحت بھی فرمائی، طلبا کے پروگرام کے بعد مولانا محمد وجیہ الدین قاسمی اور مولانا مفتی محمد عقیل یونس قاسمی نے متاثرہ ٹیچر کے ساتھ تقریباً دو گھنٹہ دعوتی انداز میں نہایت ہمدردی و خیر خواہی کے ساتھ قرآن و حدیث کے حوالہ سے تفصیلی گفتگوکی۔
الحمدللہ، اس دعوتی اور اصلاحی عمل کے نتیجے میں استاد نے اپنی غلط فہمی کا اعتراف کیا، مولانا محمد وجیہ الدین قاسمی اور مقامی ذمہ دار علماء کرام کے روبرو فتنہ گوہر شاہی کے کفریہ عقائد سے توبہ کی اور گمراہ کن نظریات سے رجوع کیا اور تجدیدِ ایمان کے ذریعہ دوبارہ اسلامی عقائد پر قائم ہونے کا عہد کیا۔ اس موقع پر علماء نے ان کے لیے استقامت کی دعا کی۔
واضح رہے کہ فتنۂ گوہر شاہی اس وقت ملک کے مختلف علاقوں میں سلوک وتصوف کے نام پر اپنے باطل اور کفریہ عقائد ونظریات کو پھیلانے میں سرگرم ہے۔ ایسے واقعات تعلیمی اداروں کے ذمّہ داران کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
مولانا مفتی تجمل حسین قاسمی صاحب سرپرست مجلس تحفظ ختم نبوت حلقہ نامپلی نے مسلم تعلیمی اداروں کے ذمہ داران سے خواہش کی کہ طلبا کے درمیان مذہبی موضوعات پر ٹیچرز کی گفتگو پر نظر رکھیں اور مشکوک نظریات کے حامل اساتذہ کے خلاف فوری کارروائی کریں۔
ریاستی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹرسٹ کے ذمہ داران نے علماء کی ان محنتوں کو سراہا اور دعا کی اللّٰہ تعالیٰ ان کی کوششوں کو قبول فرمائے کہ اور تائب شدہ ٹیچر کو دین اسلام پر استقامت عطا فرمائے اور ہم میں سے ہر شخص کو اپنے مسلمان بھائیوں کے دین وایمان کی حفاظت کے لئے مقدور بھر کوشش کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔


