حیدرآباد (دکن فائلز) گجرات میں احمدآباد کے علاقے نروڈا میں ایک مسلم ریہڑی والے کو مبینہ طور پر ہندو اکثریتی علاقے سے نکالنے کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد بحث کا موضوع بن گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق، متاثرہ شخص کی شناخت شاہجہاں کے نام سے ہوئی ہے، جو علاقے میں ریہڑی لگا کر روزگار کما رہا تھا۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ زعفرانی ٹوپیاں پہنے چند افراد، جنہیں بجرنگ دل سے منسلک بتایا جا رہا ہے، اس سے شناختی دستاویزات طلب کرتے ہیں اور اس کی موجودگی پر سوال اٹھاتے ہیں۔
جب شاہجہاں نے اپنا آدھار کارڈ دکھایا اور اس کا نام معلوم ہوا تو مبینہ طور پر اسے کہا گیا کہ اس علاقے میں صرف ہندوؤں کو کام کرنے کی اجازت ہے، اور اسے فوری طور پر وہاں سے چلے جانے پر مجبور کیا گیا۔ ویڈیو میں یہ بھی دیکھا گیا کہ دیگر دکانداروں کو خبردار کیا جا رہا ہے کہ غیر ہندو افراد کی دکانیں “ہندو علاقے” میں برداشت نہیں کی جائیں گی۔
یہ واقعہ ملک کے مختلف حصوں میں حالیہ عرصے کے دوران مذہبی بنیادوں پر امتیاز کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خدشات کو مزید تقویت دیتا ہے۔ اس سے قبل اترپردیش اور اتراکھنڈ میں ہوٹلوں اور بنڈی والوں کو مالکان کے نام ظاہر کرنے کی ہدایات جاری کی گئی تھیں، جنہیں وسیع پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے نے اس حکم پر روک لگا دی تھی۔


