حیدرآباد (دکن فائلز) برطانیہ میں ایک ڈاکٹر کو مسلم خاتون مریضہ سے نقاب اتارنے کےلئے زبردستی دباؤ ڈالنا مہنگا پڑگیا۔ حکام نے کاروائی کرتے ہوئے اس کا رجسٹریشن ہی منسوخ کردیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر کیتھ وولورسن کی جانب سے ایک مسلم خاتون کو نقاب اتارنے پر مجبور کرنے اور معطلی کے دوران کام جاری رکھنے پر سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ڈاکٹر وولورسن، جو رائل اسٹوک یونیورسٹی ہاسپٹل سے وابستہ رہے، کو میڈیکل ریگولیٹری ادارے نے مستقل طور پر میڈیکل رجسٹر سے خارج کر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر نے ایک مسلم خاتون سے بار بار نقاب ہٹانے کو کہا، یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ وہ اس کی بات سمجھنے میں مشکل محسوس کر رہا ہے۔ بعد میں ٹریبونل نے قرار دیا کہ خاتون انگریزی میں روانی رکھتی تھیں اور ڈاکٹر کا رویہ نامناسب تھا۔
مزید یہ کہ ڈاکٹر پر یہ بھی الزام ثابت ہوا کہ انہوں نے معطلی کے باوجود 17 مرتبہ طبی خدمات انجام دیں، جو ضابطوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ میڈیکل پریکٹیشنرز ٹریبونل سروس نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ڈاکٹر نے نہ صرف ضابطوں کی خلاف ورزی کی بلکہ ریگولیٹری عمل سے بھی مکمل طور پر لاتعلقی اختیار کی، جس کے باعث ان کی واپسی ممکن نہیں رہی۔


