حیدرآباد (دکن فائلز) ایک طرف سپریم کورٹ نے واضح طور پر کہا ہے کہ ’وندے ماترم‘ گانا لازمی نہیں ہے اور اس سلسلے میں مرکزی حکومت کی ہدایات محض ایک اڈوائزری ہے، وہیں دوسری طرف مدھیہ پردیش کے اندور میں دو مسلم خاتون کانگریس کونسلرز کے خلاف یہی گانا نہ گانے پر مقدمہ درج کیے جانے سے ملک میں سیکولر اقدار اور آئینی آزادیوں پر سنجیدہ سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق اندور میونسپل کارپوریشن کے اجلاس کے دوران کانگریس کونسلرز فوزیہ شیخ علیم اور روبینہ اقبال خان نے ’وندے ماترم‘ گانے سے انکار کیا، جس کے بعد بی جے پی کونسلر کی شکایت پر ایم جی نگر پولیس اسٹیشن میں ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔ پولیس نے ان پر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرنے جیسے سنگین الزامات عائد کیے ہیں، جن میں سزا تین سے پانچ سال تک ہو سکتی ہے۔
یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب عدالت عظمیٰ نے حال ہی میں مرکزی وزارت داخلہ کی اس ہدایت کو چیلنج کرنے والی عرضی پر سماعت کے دوران واضح کیا تھا کہ ’وندے ماترم‘ گانا لازمی نہیں ہے اور نہ ہی اس کے نہ گانے پر کوئی قانونی سزا مقرر ہے۔ عدالت نے کہا تھا کہ یہ صرف ایک اڈوائزری ہے، زبردستی یا پابندی نہیں۔
ایسے میں اندور پولیس کی جانب سے سخت دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنا کئی حلقوں میں تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جب سپریم کورٹ خود اس معاملہ کو اختیاری قرار دے چکی ہے، تو پھر کسی شہری یا عوامی نمائندے کے خلاف فوجداری کارروائی کرنا آئینی حقوق، خاص طور پر اظہار رائے اور مذہبی آزادی، کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
اس واقعہ نے سیاسی رنگ بھی اختیار کر لیا ہے۔ موہن یادو نے کانگریس سے وضاحت طلب کی، جبکہ جیتو پٹواری نے الزام لگایا کہ بی جے پی اس مسئلے کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کر رہی ہے اور اصل عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔
یہ معاملہ صرف ایک گانے یا ایک اجلاس تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ سوال اٹھا رہا ہے کہ کیا ملک میں سیکولرزم اور آئینی آزادیوں کو برقرار رکھا جا رہا ہے یا نہیں۔ ہندوستان کا آئین ہر شہری کو اپنے ضمیر، مذہب اور اظہار کی آزادی دیتا ہے۔ ایسے میں کسی خاص عمل کو زبردستی نافذ کرنے یا اس پر قانونی کارروائی کرنے کی کوششیں ان بنیادی اصولوں کے منافی سمجھی جا رہی ہیں۔


