حیدرآباد (دکن فائلز) انڈومان سمندر میں پیش آنے والے ایک ہولناک کشتی حادثہ میں روہنگیا مہاجرین اور بنگلہ دیشی شہریوں سمیت کم از کم 250 افراد لاپتہ ہو گئے ہیں۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک بھری ہوئی کشتی ملائیشیا کی جانب سفر کے دوران تیز ہواؤں اور بلند لہروں کی زد میں آکر ڈوب گئی۔
اقوام متحدہ کے اداروں نے مشترکہ بیان میں بتایا کہ یہ ٹرالر جنوبی بنگلہ دیش کے علاقہ ٹیکناف کوس بازار سے روانہ ہوا تھا اور اس میں بڑی تعداد میں افراد سوار تھے، جو بہتر زندگی کی تلاش میں ملائیشیا جا رہے تھے۔ اداروں کے مطابق کشتی میں گنجائش سے زیادہ افراد سوار تھے، جبکہ خراب موسمی حالات، تیز ہوائیں اور سمندر کی طغیانی اس حادثے کی بڑی وجوہات بنیں۔
کشتی کے ڈوبنے کے بعد 15 اپریل تک ریسکیو آپریشن کی صورتحال واضح نہیں ہو سکی، جس سے لاپتہ افراد کے زندہ بچنے کی امیدیں معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔ اقوام متحدہ نے اس واقعہ کو روہنگیا مہاجرین کے مسلسل بحران کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ راکھین میں جاری تشدد کے باعث روہنگیا افراد کی اپنے وطن واپسی اب بھی غیر یقینی ہے۔ بنگلہ دیش کے مہاجر کیمپوں میں محدود سہولیات، تعلیم اور روزگار کے مواقع کی کمی انہیں خطرناک سمندری سفر پر مجبور کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ 2017 میں میانمار میں فوجی کارروائیوں کے بعد لاکھوں روہنگیا افراد بنگلہ دیش ہجرت کر گئے تھے، جہاں اس وقت 10 لاکھ سے زائد مہاجرین مقیم ہیں۔ اقوام متحدہ نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ بنگلہ دیش میں مقیم روہنگیا مہاجرین کے لیے امداد اور تعاون میں اضافہ کرے تاکہ ایسے سانحات کو روکا جا سکے۔


