بڑی خبر: وائٹ ہاؤس پریس ڈنر میں ڈونلڈ ٹرمپ پر حملہ، فائرنگ میں امریکی صدر محفوظ، حملہ آور گرفتار، ویڈیو اور تصویر جاری (تفصیلی خبر: ویڈیوز دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) امریکی دارالحکومت میں ہونے والے سالانہ وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ڈنر کے دوران اچانک فائرنگ کے واقعے نے نہ صرف تقریب کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ امریکی سیکیورٹی نظام پر بھی کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے۔ واقعے کے وقت ڈونلڈ ٹرمپ اپنی اہلیہ اور اعلیٰ حکام کے ہمراہ تقریب میں موجود تھے، تاہم خوش قسمتی سے وہ اور دیگر تمام اہم شخصیات محفوظ رہے۔

تفصیلات کے مطابق ہفتے کی رات واشنگٹن کے ایک ہوٹل میں جاری تقریب کے دوران اچانک فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں۔ عینی شاہدین کے مطابق متعدد گولیوں جیسی آوازیں آئیں، مہمانوں میں خوف و ہراس پھیل گیا، کئی افراد میزوں کے نیچے چھپ گئے اور سیکیورٹی اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے صدر کو محفوظ مقام پر منتقل کیا۔

ابتدائی معلومات کے مطابق حملہ آور سیکیورٹی حصار توڑتے ہوئے اندر داخل ہوا اور سیکیورٹی چیک پوائنٹ کے قریب فائرنگ کی۔ امریکی میڈیا بشمول سی این این کے مطابق مشتبہ شخص کی شناخت 31 سالہ کول تھامس ایلن کے طور پر ہوئی جو کیلیفورنیا (ٹورینس / لاس اینجلس) کا رہائشی ہے اور پیشہ کے اعتبار سے پارٹ ٹائم ٹیچر اور فری لانس گیم ڈویلپر ہے۔ ملزم کی مکینیکل اور کمپیوٹر سائنس انجینئرنگ ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کے پاس شاٹ گن، ہینڈ گن اور چاقو موجود تھے، وہ ہوٹل میں بطور مہمان مقیم تھا اور اس کا کوئی واضح مجرمانہ ریکارڈ سامنے نہیں آیا۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ پر حملہ آور کی تصویر اور سی سی ٹی وی ویڈیو شیئر کی۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حملہ آور تیزی سے اندر داخل ہوتا ہے، سیکیورٹی اہلکار فوری ردعمل دیتے ہیں اور چند ہی لمحوں میں اسے قابو کر لیا جاتا ہے

امریکی سیکرٹ سروس نے کہا کہ فوری جوابی کارروائی کی گئی، حملہ آور کو موقع پر ہی گرفتار کیا اور اس پورے واقعہ ایک اہلکار زخمی ہوا مگر بلٹ پروف جیکٹ نے جان بچا لی۔ ڈی سی پولیس کے مطابق واقعہ کی مکمل تحقیقات جاری ہیں، ہوٹل کے کمرے کو سیل کر دیا گیا اور یہ جاننے کی کوشش ہو رہی ہے کہ حملہ آور اندر کیسے پہنچا۔

صدر ٹرمپ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ “یہ ایک حیران کن لمحہ تھا”، “سیکیورٹی اداروں نے بہادری سے کام لیا”، “ابتدائی طور پر لگتا ہے حملہ انفرادی تھا” اور “اس کا ایران سے کوئی تعلق نہیں”۔

انہوں نے مزید کہا کہ حملہ آور تقریباً 15 گز کے فاصلے تک پہنچ گیا تھا، وہ ممکنہ طور پر انہیں نشانہ بنانا چاہتا تھا اور تقریب کو 30 دن بعد دوبارہ منعقد کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں