حیدرآباد (دکن فائلز) جنگ اور تباہی سے دوچار غزہ میں بھی جمہوریت کی ایک منفرد تصویر سامنے آئی ہے، جہاں شدید مشکلات کے باوجود عوام نے ووٹنگ کے عمل میں حصہ لینے کے لیے لمبی قطاریں لگائیں۔ شہری اپنے بچوں کو ساتھ لائے تاکہ انہیں جمہوری عمل سے روشناس کرایا جا سکے—یہ منظر اس بات کی علامت ہے کہ سخت ترین حالات بھی عوام کے عزم کو کمزور نہیں کر سکے۔
رپورٹس کے مطابق ووٹنگ مراکز کے باہر مرد و خواتین کی بڑی تعداد جمع ہوئی، جبکہ والدین اپنے بچوں کو ساتھ لا کر انہیں ووٹنگ کے عمل کی عملی تربیت دیتے نظر آئے۔ یہ عمل نہ صرف جمہوری شعور کو فروغ دینے کی کوشش ہے بلکہ آنے والی نسل کو امید اور شعور دینے کی ایک علامت بھی ہے۔
غزہ طویل عرصے سے اسرائیلی کارروائیوں، ناکہ بندی اور انسانی بحران کا شکار ہے۔ بنیادی سہولیات کی کمی، بے گھری اور مسلسل خطرات کے باوجود عوام کا ووٹنگ میں حصہ لینا غیر معمولی عزم اور حوصلے کا مظہر ہے۔
دوسری جانب فلسطینی تنظیم حماس نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات میں شفاف اور آزادانہ انتخابات ممکن نہیں، اور اسرائیلی دباؤ کے تحت ہونے والے عمل کو وہ قبول نہیں کرتی۔
غزہ میں ایسے حالات میں ووٹنگ کا انعقاد محض ایک سیاسی عمل نہیں بلکہ مزاحمت، امید اور بقا کی علامت بھی ہے۔ شہریوں کی شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ تمام تر مشکلات کے باوجود اپنی آواز بلند کرنے اور اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
غزہ کے عوام نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ جنگ اور تباہی کے باوجود ان کا حوصلہ بلند ہے۔ ووٹنگ کے لیے قطاروں میں کھڑے یہ افراد دراصل ایک پیغام دے رہے ہیں کہ جمہوریت اور امید کی شمع کو بجھایا نہیں جا سکتا۔


