حیدرآباد (دکن فائلز) میڈیا رپورٹس کے مطابق اتر پردیش کے غازی آباد میں رہنے والا ملعون یوٹیوبر سلیم واستک مسلسل اسلام مخالف بیانات دیکر مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح کررہا تھا جس سے تنگ آکر دو مسلم نوجوانوں نے اس پر حملہ کردیا تھا تاہم وہ اس حملہ میں شدید زخمی ہوگیا تھا۔ بعد میں پولیس انکاونٹر میں دونوں نوجوانوں کی موت ہوگئی۔
تازہ طور پر اس معاملہ میں حیران کن انکشافات سامنے آئے ہیں۔ اس واقعہ نے اس وقت نیا رخ اختیار کیا جب تفتیش کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ سلیم واسٹک دراصل تین دہائیوں پرانے اغوا اور قتل کیس میں مفرور ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق 20 جنوری 1995 کو شمال مشرقی دہلی میں ایک تاجر کے 13 سالہ بیٹے سندیپ بنسل کو اغوا کیا گیا تھا۔ اغوا کاروں نے 30 ہزار روپے تاوان کا مطالبہ کیا تھا، اور عدم ادائیگی پر بچے کو قتل کر دیا گیا تھا۔
تحقیقات کے دوران مرتد سلیم، جو اس وقت بچے کے اسکول میں مارشل آرٹس انسٹرکٹر تھا، پولیس کے شک کے دائرے میں آیا۔ 1995 میں گرفتاری کے بعد اس کے انکشاف پر بچے کی لاش برآمد ہوئی۔ بعد ازاں عدالت نے 1997 میں اسے عمر قید کی سزا سنائی۔
تاہم سال 2000 میں دہلی ہائی کورٹ سے عبوری ضمانت ملنے کے بعد مجرم سلیم فرار ہوگیا اور تب سے مسلسل مختلف ریاستوں میں اپنی شناخت چھپا کر رہتا رہا۔ پولیس کے مطابق ملزم نے اپنی اصل شناخت چھپانے کے لیے مختلف نام استعمال کیے اور یہاں تک کہ خود کو مردہ ظاہر کرنے میں بھی کامیاب رہا۔ بعد میں وہ “سلیم واسٹک” کے نام سے غازی آباد کے علاقے لونی میں مقیم ہوا، جہاں اس نے اسلام مخالف ویڈیوز بناکر یوٹیوب پر اپ لوڈ کرتا تھا۔
حالیہ پیش رفت میں دہلی پولیس نے ہفتہ کے روز سلیم واسٹک کو ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق وہ تین دہائیوں سے قانون سے فرار تھے اور اب ان کے خلاف مزید قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔


