حیدرآباد (دکن فائلز) محصور اور جنگ زدہ Gaza میں جاری شدید بمباری اور خوفناک حالات کے درمیان ایک نہایت دل دہلا دینے والا انسانی المیہ سامنے آ رہا ہے، معصوم بچے اپنی آوازیں کھوتے جا رہے ہیں۔ یہ خاموشی صرف الفاظ کی نہیں، بلکہ ٹوٹتے ہوئے بچپن، بکھرتی نفسیات اور کچلے ہوئے خوابوں کی خاموش گواہی بن چکی ہے۔
عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق غزہ میں بڑھتی ہوئی بمباری اور مسلسل خوف کے ماحول نے بچوں کو اس حد تک متاثر کیا ہے کہ وہ بولنے کی صلاحیت سے محروم ہو رہے ہیں۔ یہ مسئلہ صرف جسمانی زخموں تک محدود نہیں بلکہ شدید ذہنی صدمے کا نتیجہ بھی ہے۔
پانچ سالہ جد زہود کی کہانی اس المیے کی ایک دردناک مثال ہے۔ اپنے گھر کے قریب دھماکے کے بعد وہ اچانک بولنا بھول گیا۔ ایک ایسا بچہ جو پہلے ہنستا، بولتا اور کھیلتا تھا، اب خاموشی میں ڈوب چکا ہے۔ اس کے ہونٹ ہلتے نہیں، مگر آنکھیں سب کچھ بیان کر دیتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق کئی بچوں میں یہ کیفیت سلیکٹو میوٹزم یا ہسٹیریکل افونیا کی شکل اختیار کر لیتی ہے—ایسی حالت جہاں شدید ذہنی دباؤ انسان کو بولنے سے روک دیتا ہے۔ بعض بچوں میں کوئی جسمانی چوٹ نہیں ہوتی، لیکن مسلسل خوف، دھماکوں کی آوازیں، اور اپنوں کی موت دیکھنے کے بعد ان کا ذہن خود کو “بند” کر لیتا ہے۔
غزہ سٹی کے حماد اسپتال کے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ایسے کیسز میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر موسیٰ الخرطی کے مطابق کئی بچے مکمل طور پر اپنی آواز کھو چکے ہیں، اور ان کی بحالی ایک طویل اور مشکل عمل ہے۔
چار سالہ لوسین تمبورا ایک بمباری سے متاثرہ عمارت سے گرنے کے بعد نہ صرف جسمانی طور پر زخمی ہوئیں بلکہ اپنی آواز بھی کھو بیٹھیں۔ ان کی والدہ کے مطابق، جسمانی زخم تو کچھ حد تک بھر رہے ہیں، مگر آواز اب بھی واپس نہیں آئی—گویا صدمہ ان کے وجود میں کہیں گہرائی تک بیٹھ چکا ہے۔
بین الاقوامی تنظیم ڈاکٹر وتھ آوٹ بارڈرس سے وابستہ ماہرِ نفسیات کترین گلاٹز بروباک اس کیفیت کو “خاموش اذیت” قرار دیتی ہیں۔ ان کے مطابق یہ بچے اکثر وہ سب کچھ دیکھ چکے ہوتے ہیں جو کسی انسان کو اندر سے توڑ دینے کے لیے کافی ہے، اپنوں کی لاشیں، تباہ گھر، اور ہر لمحہ موت کا خوف۔ ان کے مطابق یہ کیفیت جسم کے “فریز رسپانس” کا نتیجہ ہے، جہاں دماغ خود کو خطرے سے بچانے کے لیے تمام اظہار بند کر دیتا ہے۔ یوں بچے نہ صرف بولنا چھوڑ دیتے ہیں بلکہ کھیلنا، سیکھنا اور دوسروں سے جڑنا بھی ترک کر دیتے ہیں۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر فوری اور مسلسل علاج نہ کیا گیا تو یہ مسئلہ بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما کو ہمیشہ کے لیے متاثر کر سکتا ہے۔ اندازوں کے مطابق غزہ میں تقریباً 1.1 ملین بچے نفسیاتی اور سماجی مدد کے محتاج ہیں۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ایسے بچوں کی بحالی کے لیے محفوظ ماحول، مستقل علاج اور محبت بھرا سماجی سہارا ضروری ہے، مگر افسوس کہ جنگ زدہ غزہ میں یہ سب نایاب ہو چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق کھیل، سکون بخش سرگرمیاں اور جذباتی سہارا کچھ حد تک مدد دے سکتے ہیں، لیکن اصل علاج صرف ایک چیز ہے: امن۔
غزہ کے بچے آج صرف جنگ کا شکار نہیں، بلکہ ایک ایسی خاموش اذیت میں مبتلا ہیں جس کی کوئی آواز نہیں، مگر اس کی شدت کسی چیخ سے کم نہیں۔ یہ خاموشی دنیا کے ضمیر کے لیے ایک سوال ہے: کیا ان معصوم آوازوں کو ہمیشہ کے لیے کھو جانے دیا جائے گا؟


