دینی و دنیاوی تعلیم کا عظیم الشان امتزاج: حافظ سید زید صادق کی مشکل ترین امتحان ’جے ای ای مینس‘ میں شاندار کامیابی، مسلم طلبا کےلئے روشن مثال

حیدرآباد (دکن فائلز) مہاراشٹر کے ناسک سے تعلق رکھنے والے 15 سالہ حافظِ قرآن سید زید صادق نے ایک ایسی مثال قائم کی ہے جو نہ صرف مسلم طلبہ بلکہ خصوصاً مدارس کے طلبہ اور حفاظِ کرام کے لیے باعثِ فخر اور حوصلہ افزائی ہے۔

زید نے ملک کے مشکل ترین امتحانات میں شمار ہونے والے JEE Main 2026 (Session 2) میں 99.927 پرسنٹائل حاصل کرکے نہ صرف اپنے شہر بلکہ پورے ملک میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا۔ وہ اشوکا کالج کے طالب علم ہیں اور مسلسل محنت، نظم و ضبط اور لگن کے ذریعے یہ مقام حاصل کیا۔

زید کی کامیابی کی سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ انہوں نے کم عمری میں قرآنِ کریم حفظ کیا۔ انہوں نے مدرسے کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اسکول کی پڑھائی کو بھی جاری رکھا اور کلاس 9 کے دوران گھر پر استاد اور والدہ کی نگرانی میں حفظ مکمل کیا۔

یہ کامیابی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دین اور دنیا کی تعلیم ایک دوسرے کی مخالف نہیں بلکہ اگر اخلاص، محنت اور صحیح رہنمائی ہو تو دونوں میدانوں میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ زید نے دسویں جماعت میں 95 فیصد نمبر حاصل کیے اور JEE Main کے دونوں سیشنز میں 99 سے زائد پرسنٹائل برقرار رکھا، جو ان کی مستقل مزاجی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ان کے والد سید صادق اور والدہ سید زوقیہ نے ان کی تعلیم و تربیت میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وہ ایک تعلیمی پس منظر رکھنے والے گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے دادا سید ستار علی روشن ایک معروف ہیڈ ٹیچر رہے ہیں۔

زید کے اساتذہ کا کہنا ہے کہ زید نے ثابت کیا ہے کہ اگر وقت کا صحیح استعمال کیا جائے تو طالب علم بیک وقت دینی اور عصری تعلیم میں نمایاں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ ان کا مضبوط معمول اور یکسوئی ان کی کامیابی کا راز ہے۔

زید کی کامیابی ان تمام طلبا کے لیے ایک روشن مثال ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ صرف ایک ہی میدان میں کامیابی ممکن ہے۔ یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ مدارس کے طلبا اور حفاظ بھی دنیا کے بڑے تعلیمی میدانوں میں نمایاں مقام حاصل کر سکتے ہیں۔

اصل کامیابی کا راز محنت، نظم و ضبط، اخلاص اور اللہ پر توکل میں پوشیدہ ہے۔ زید اب JEE Advanced کی تیاری کر رہے ہیں اور ان کا خواب ہے کہ وہ کسی ممتاز Indian Institute of Technology میں داخلہ حاصل کریں۔ زید صادق جیسے نوجوان نہ صرف قوم کا سرمایہ ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن چراغ بھی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں