اہم خبر: گائے کے گوشت کے شبہ میں گاڑی ضبط کرنا غیرقانونی و شہری حقوق کی سنگین خلاف ورزی! دو لاکھ روپئے معاوضہ دیں اترپردیش حکومت، الہ آباد ہائیکورٹ کا اہم و بڑا فیصلہ

حیدرآباد (دکن فائلز) الہ آباد ہائیکورٹ نے ایک اہم اور قابلِ توجہ فیصلے میں اتر پردیش حکومت کے اس اقدام کو کالعدم قرار دے دیا جس کے تحت ایک شہری کی گاڑی کو مبینہ طور پر گائے کے گوشت کی غیر قانونی نقل و حمل کے الزام میں ضبط کیا گیا تھا، جبکہ اس الزام کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا تھا۔ عدالت نے نہ صرف گاڑی ضبط کرنے کے عمل کو غیر قانونی قرار دیا بلکہ متاثرہ فرد کو 2 لاکھ روپے بطور معاوضہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ کسی بھی شہری کے خلاف کارروائی محض شبہ یا غیر مصدقہ الزامات کی بنیاد پر نہیں کی جا سکتی۔ اگر سرکاری ادارے مناسب شواہد پیش کرنے میں ناکام رہیں تو ایسی کارروائیاں نہ صرف غیر قانونی بلکہ شہری حقوق کی سنگین خلاف ورزی تصور کی جائیں گی۔

رپورٹس کے مطابق متعلقہ شہری کی گاڑی کو اس بنیاد پر ضبط کیا گیا تھا کہ وہ مبینہ طور پر گائے کے گوشت کی نقل و حمل میں ملوث ہے۔ تاہم تحقیقات کے دوران یہ الزام ثابت نہیں ہو سکا۔ اس کے باوجود گاڑی کو طویل عرصے تک ضبط رکھا گیا، جس پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔

عدالت نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ذمہ داری کے ساتھ کام کرنا چاہیے، بغیر ثبوت کے سخت کارروائی انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے اور شہریوں کے ساتھ ایسا سلوک ناقابلِ قبول ہے۔

ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ ریاستی اداروں کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کارروائی کرنی چاہیے اور کسی بھی فرد کے بنیادی حقوق کو پامال نہیں کرنا چاہیے۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ انصاف کا تقاضا ہے کہ ہر الزام کو ثبوت کے ساتھ ثابت کیا جائے، نہ کہ قیاس آرائیوں پر فیصلے کیے جائیں۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب ملک کے مختلف حصوں میں گائے کے تحفظ کے نام پر کئی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں بعض افراد کو محض شک کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔ متعدد معاملات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ جھوٹے الزامات لگا کر لوگوں کو ہراساں کیا گیا، ہجوم کی جانب سے تشدد (mob lynching) کے واقعات پیش آئے اور قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوششیں کی گئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں