حج اخراجات میں اضافہ پر اسدالدین اویسی کا سخت ردعمل، حکومت سے سرکلر واپس لینے کا مطالبہ

حیدرآباد (دکن فائلز) حج 2026 کے لیے عازمین سے اضافی 10 ہزار روپے وصول کرنے کے حکومتی فیصلے پر سیاسی اور عوامی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اور رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے اس فیصلے کو ’’استحصال‘‘ قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی ہے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ حج کمیٹی آف انڈیا عازمین سے ’ہوائی کرایے کے فرق‘ کے نام پر مزید 10 ہزار روپے طلب کر رہی ہے، حالانکہ اس سے قبل ہی ممبئی امبارکیشن پوائنٹ سے ہر عازم سے تقریباً 90,844 روپے وصول کیے جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق یہ رقم عام فضائی کرایوں کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہے۔

اوَیسی نے سوال کیا کہ کیا حج کمیٹی کے ذریعے سفر کرنے والے عازمین کو سزا دی جا رہی ہے؟ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر عازمین متوسط یا کم آمدنی والے ہوتے ہیں، جو برسوں کی جمع پونجی سے حج کا فریضہ ادا کرنے جاتے ہیں، اس لیے اس طرح کے اضافی بوجھ کو کسی صورت درست نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

انہوں نے حکومت، بالخصوص وزیر اقلیتی امور کرن رجیجو سے مطالبہ کیا کہ اس سرکلر کو فوری طور پر واپس لیا جائے اور عازمین سے اضافی وصول کی گئی رقم واپس کی جائے۔

دوسری جانب حج کمیٹی آف انڈیا کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور غیر معمولی حالات کے باعث فضائی اخراجات میں اضافہ ہوا ہے، جس کے پیش نظر کرایوں میں ترمیم ناگزیر ہو گئی۔ وزارت اقلیتی امور کے مطابق تمام عازمین کو 15 مئی تک یہ اضافی رقم جمع کرانی ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں