حیدرآباد (دکن فائلز) بریلی کے قریب ریلوے ٹریک سے ایک نوجوان عالمِ دین، بہار کے رہائشی حافظ توصیف کی لاش برآمد ہونے کے بعد معاملہ سنگین رخ اختیار کر گیا ہے۔ ابتدائی طور پر اس واقعہ کو حادثہ قرار دیا گیا، تاہم متوفی کے اہلِ خانہ نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے قتل قرار دیا ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ انہیں پہلے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حافظ توصیف بہار سے تعلق رکھتے تھے اور کسی ذاتی کام کے سلسلے میں سفر کر رہے تھے۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ عینی شاہدین نے انہیں کچھ افراد کے ہاتھوں زد و کوب ہوتے دیکھا تھا، جس کے بعد ان کی لاش ریلوے ٹریک کے قریب پائی گئی۔ اس بنیاد پر خاندان کا کہنا ہے کہ یہ محض حادثہ نہیں بلکہ ایک منصوبہ بند قتل ہے۔
اہلِ خانہ نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور ملوث افراد کو فوری گرفتار کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات نہ صرف قانون و انصاف پر سوال اٹھاتے ہیں بلکہ اقلیتی طبقے میں خوف و ہراس بھی پیدا کرتے ہیں۔
پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے، جس سے موت کی اصل وجوہات سامنے آنے کی امید ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور جلد حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔


