حیدرآباد (دکن فائلز) جوبلی ہلز میں کمسن لڑکیوں کو سوشل میڈیا کے ذریعہ جال میں پھنسانے اور بلیک میل کرنے کے معاملے میں پولیس تحقیقات کے دوران سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔ پولیس نے 23 سالہ ملزم کوڈوری چندر شیکھر آزاد عرف ارجن کو گرفتار کرلیا ہے، جس پر الزام ہے کہ اس نے دو درجن سے زائد نابالغ لڑکیوں کو جعلی محبت کے جال میں پھنسا کر لاکھوں روپے ہتھیائے۔
پولیس کے مطابق ملزم انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے امیر خاندانوں کی لڑکیوں کو نشانہ بناتا تھا۔ وہ خود کو ایک دولت مند اور بااثر شخص ظاہر کرتا، مہنگی گاڑیوں، فائیو اسٹار مقامات اور فلمی دنیا سے تعلق رکھنے والی تصاویر شیئر کرتا تاکہ لڑکیاں متاثر ہوجائیں۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ملزم نے “سمر انٹرنشپ” کے نام سے ایک خصوصی گروپ بھی بنایا تھا، جہاں نوجوان لڑکیوں کو سرٹیفکیٹ اور 15 سے 20 ہزار روپے تک وظیفہ دینے کا لالچ دیا جاتا تھا۔ اس گروپ کے ذریعے لڑکیوں سے ذاتی روابط قائم کیے جاتے اور بعد میں انہیں مبینہ طور پر بلیک میل کیا جاتا تھا۔
پولیس کے مطابق ارجن خفیہ طور پر لڑکیوں کی تصاویر اور ویڈیوز ریکارڈ کرتا اور بعد میں انہیں وائرل کرنے کی دھمکی دے کر رقم اور زیورات طلب کرتا تھا۔ خوف کے باعث کئی متاثرہ لڑکیوں نے اپنے گھروں سے نقد رقم اور سونا چرا کر ملزم کو دیا۔
یہ معاملہ اُس وقت منظر عام پر آیا جب جوبلی ہلز کی ایک 15 سالہ لڑکی کی والدہ نے پولیس میں شکایت درج کرائی۔ شکایت کے مطابق ملزم نے لڑکی سے تقریباً 13 لاکھ روپے حاصل کیے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندان سے مجموعی طور پر 29 لاکھ روپے نکلوائے گئے تھے۔
تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ ایک خاتون، جس کی شناخت سارسوتی کے طور پر ہوئی ہے اور جو متاثرہ لڑکی کے گھر میں کام کرنے والے ڈرائیور کی اہلیہ بتائی جا رہی ہے، بھی اس بلیک میلنگ نیٹ ورک میں شامل ہوسکتی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم گزشتہ دو برسوں کے دوران تلنگانہ اور آندھرا پردیش کی 20 سے زائد لڑکیوں کو اپنا شکار بنا چکا ہے۔ نارسنگی اور دیگر علاقوں سے بھی اسی نوعیت کی شکایات سامنے آئی ہیں۔
پولیس نے ملزم کو عدالتی تحویل میں بھیج دیا ہے جبکہ اس کے سوشل میڈیا نیٹ ورک، انسٹاگرام فالوورز اور ممکنہ ساتھیوں کے کردار کی بھی جانچ جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مزید متاثرین سامنے آنے کا امکان ہے اور تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے۔


