الرٹ: ہندوستان میں اچانک موبائل بجنے کے بعد اب ٹی وی اور کمپیوٹر اسکرین پر بھی نظر آئیں گے وارننگ پیغامات، ایمرجنسی الرٹ سسٹم مزید وسیع

حیدرآباد (دکن فائلز) ہندوستان میں عوامی تحفظ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے حکومت ایک بڑے تکنیکی منصوبے پر کام کر رہی ہے، جس کے تحت مستقبل میں ہنگامی الرٹ صرف موبائل فون تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ٹی وی اسکرین، کمپیوٹر، ریڈیو، ریلوے پلیٹ فارم، ہائی وے ڈسپلے سسٹم اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بھی نشر کیے جائیں گے۔

سنٹر فار ڈیولپمنٹ آف ٹیلیمیٹک یعنی سی-ڈاٹ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر راجکمار اپادھیا نے ایک خصوصی گفتگو میں بتایا کہ حکومت ملک کے ایمرجنسی الرٹ سسٹم کو کثیر جہتی پلیٹ فارم میں تبدیل کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ ان کے مطابق حال ہی میں موبائل فون پر ایمرجنسی الرٹ پیغامات کی کامیاب آزمائش کی گئی تھی اور اب اگلا مرحلہ ان وارننگز کو دیگر ڈیجیٹل ذرائع تک توسیع دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے درکار ٹیکنالوجی پہلے ہی تیار کی جا چکی ہے اور حکومت کی باضابطہ منظوری کے بعد اس کے عملی تجربات شروع کیے جائیں گے۔ کامیاب آزمائش کے بعد یہ نظام مرحلہ وار پورے ملک میں نافذ کیا جا سکتا ہے تاکہ قدرتی آفات، موسمی ہنگامی صورتحال، جنگی خطرات یا دیگر ایمرجنسی حالات میں فوری طور پر شہریوں تک اطلاعات پہنچائی جا سکیں۔

راجکمار اپادھیائے کے مطابق ہندوستان کا ڈیزاسٹر وارننگ سسٹم گزشتہ چند برسوں میں بڑی تکنیکی تبدیلی سے گزرا ہے۔ پہلے اگر کسی ریاست میں طوفان یا سیلاب کا خطرہ ہوتا تو India Meteorological Department یعنی آئی ایم ڈی ریاستی چیف سکریٹری کو خط یا ای میل بھیجتا، جسے بعد میں ضلعی انتظامیہ تک پہنچایا جاتا۔ عوام کو خبردار کرنے کے لیے اخبارات یا مقامی انتظامیہ پر انحصار کیا جاتا تھا۔

اس طریقہ کار میں دو بڑی خامیاں تھیں۔ پہلی یہ کہ خطرے والے اصل علاقے کے تمام لوگوں تک بروقت اطلاع نہیں پہنچ پاتی تھی، اور دوسری یہ کہ غیر متعلقہ علاقوں کے لوگوں کو بھی وارننگ ملتی تھی، جس سے لوگ بعد میں الرٹس کو سنجیدگی سے لینا چھوڑ دیتے تھے۔

راجکمار اپادھیائے نے بتایا کہ 2020 کے آس پاس National Disaster Management Authority اور سی-ڈاٹ کے درمیان ایک مقامی ایمرجنسی الرٹ پلیٹ فارم بنانے پر بات چیت شروع ہوئی۔ اس وقت غیر ملکی کمپنیاں ایسی ٹیکنالوجی کے لیے بہت زیادہ قیمت طلب کر رہی تھیں، جس کے بعد مقامی حل تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ابتدائی تجربات تمل ناڈو میں کیے گئے، جبکہ 2021-22 میں این ڈی ایم اے نے باضابطہ طور پر سی-ڈاٹ کو ایک متحدہ پلیٹ فارم تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی۔ اس پلیٹ فارم کو آئی ایم ڈی، سینٹرل واٹر کمیشن، INCOIS اور دیگر ڈیزاسٹر وارننگ ایجنسیوں سے جوڑا گیا تاکہ کسی انسانی مداخلت کے بغیر خودکار طور پر الرٹ موصول ہو سکیں۔

سی-ڈاٹ کا یہ نیا نظام مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ہے۔ یہ موسمی معلومات، تاریخی سائیکلون پیٹرن، جغرافیائی ڈیٹا اور گوگل فیڈز کی مدد سے اندازہ لگاتا ہے کہ آفت سے کون سا مخصوص علاقہ متاثر ہوگا۔ مثال کے طور پر اگر اوڈیشہ کے گوپال پور میں طوفان آنے کا خدشہ ہو تو پورے صوبے کے بجائے صرف متعلقہ علاقوں کے لوگوں کو الرٹ بھیجا جائے گا۔

### ٹیلی کام کمپنیوں کے ساتھ انضمام

یہ سسٹم تمام بڑے ٹیلی کام آپریٹروں سے منسلک ہے۔ سی-ڈاٹ کا سافٹ ویئر ٹیلی کام کمپنیوں کے انفراسٹرکچر میں نصب کیا گیا ہے، جو متاثرہ علاقے کے موبائل ٹاورز اور ان سے جڑے صارفین کی نشاندہی کرتا ہے۔ حکام کے مطابق صارفین کی پرائیویسی مکمل طور پر محفوظ رکھی جاتی ہے کیونکہ صارفین کا ذاتی ڈیٹا ٹیلی کام کمپنیوں کے سرورز سے باہر منتقل نہیں کیا جاتا۔

ابتدائی مرحلے میں الرٹس ایس ایم ایس کے ذریعے بھیجے جاتے تھے۔ سی-ڈاٹ کے مطابق 2023-24 سے اب تک تقریباً 124 ارب ایس ایم ایس الرٹس بھیجے جا چکے ہیں۔ ان پیغامات کی خاص بات یہ تھی کہ انہیں مقامی زبانوں میں خودکار طور پر ترجمہ کرکے صارفین تک پہنچایا جاتا تھا۔

تاہم ایس ایم ایس سسٹم میں کئی خامیاں سامنے آئیں، خاص طور پر 2G اور 3G نیٹ ورکس میں صارفین کی شناخت میں زیادہ وقت لگتا تھا اور بڑے پیمانے پر ہنگامی صورتحال میں سرورز پر دباؤ بڑھنے سے پیغامات تاخیر سے پہنچتے تھے۔

اسی مسئلے کے حل کے لیے حکومت اور این ڈی ایم اے نے “سیل براڈکاسٹ ٹیکنالوجی” متعارف کرائی۔ اس نظام میں موبائل ٹاور ریڈیو سگنل کی طرح ایک ہی وقت میں تمام فونز کو الرٹ بھیجتے ہیں۔ اس کے لیے انٹرنیٹ یا کسی ایپ کی ضرورت نہیں ہوتی اور الرٹ صرف 2 سے 10 سیکنڈ میں صارفین تک پہنچ جاتا ہے۔

سی-ڈاٹ کے مطابق یہ ٹیکنالوجی صرف قدرتی آفات تک محدود نہیں رہے گی بلکہ مستقبل میں دفعہ 144، لاپتہ بچوں، چوری شدہ گاڑیوں، کیمیکل لیک، دہشت گرد حملوں، انخلا کے احکامات اور جنگی حالات میں میزائل حملوں جیسے الرٹس بھی مخصوص علاقوں میں موجود لوگوں تک فوری پہنچائے جا سکیں گے۔

حکام نے یہ بھی بتایا کہ دور دراز علاقوں اور سمندر میں موجود ماہی گیروں کے لیے سیٹلائٹ پر مبنی ایمرجنسی الرٹ سسٹم پر بھی کام جاری ہے، جس کے تحت چھوٹے سیٹلائٹ ڈیوائسز براہِ راست سیٹلائٹ سے سگنل حاصل کرکے بلوٹوتھ کے ذریعے موبائل فونز تک الرٹس پہنچائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں