مدعی لاکھ برا چاہے تو ۔۔۔! ووٹر لسٹ سے نام خارج و دیگر مسائل کے باوجود مطب شیخ نے بی جے پی امیدوار کو ہرا دیا

حیدرآباد (دکن فائلز) مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں فرخا حلقہ سے مطب شیخ کی کامیابی محض ایک انتخابی جیت نہیں بلکہ جمہوری حقوق، قانونی جدوجہد اور ووٹنگ کے حق کی بحالی کی ایک غیر معمولی مثال بن کر سامنے آئی ہے۔ کانگریس امیدوار مطب شیخ نے بی جے پی امیدوار سدھیر چودھری کو آٹھ ہزار سے زائد ووٹوں سے شکست دے کر نہ صرف ایک اہم سیاسی کامیابی حاصل کی بلکہ خود کو ایک علامتی سیاسی شخصیت کے طور پر بھی منوایا۔

مطب شیخ پیشے کے اعتبار سے ایک تاجر ہیں، مگر ان کی انتخابی مہم اس وقت غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئی تھی جب اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) عمل کے دوران ان کا نام ووٹر لسٹ سے حذف کر دیا گیا۔ اس اقدام نے نہ صرف ان کے ووٹ ڈالنے کے حق کو متاثر کیا بلکہ ان کی امیدواری بھی خطرے میں پڑ گئی تھی۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے “تکنیکی وجوہات” کا حوالہ دے کر ان کا نام حذف کیے جانے پر سیاسی اور قانونی حلقوں میں سوالات اٹھے۔ مطب شیخ نے اس فیصلے کے خلاف قانونی جنگ شروع کی اور معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا۔ سپریم کورٹ نے انہیں کولکاتہ میں قائم اسپیشل اپیلیٹ ٹریبونل سے رجوع کرنے کی اجازت دی۔

بعد ازاں ریٹائرڈ جسٹس ٹی ایس سیوگنم کی سربراہی والے ٹریبونل نے ان کے پاسپورٹ اور دیگر سرکاری دستاویزات کو قابل قبول ثبوت قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو ہدایت دی کہ ان کا نام دوبارہ ووٹر لسٹ میں شامل کیا جائے۔ اس فیصلے کے بعد مطب شیخ مغربی بنگال کے پہلے ایسے امیدوار بن گئے جن کا نام ایس آئی آر عمل کے دوران حذف ہونے کے بعد قانونی کارروائی کے ذریعہ بحال ہوا اور انہیں دوبارہ الیکشن لڑنے کا حق ملا۔

یہ معاملہ اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا کیونکہ مغربی بنگال میں ایس آئی آر مہم کے دوران تقریباً 91 لاکھ ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کیے گئے، جو کل ووٹروں کا تقریباً 11.9 فیصد بنتا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس عمل کو غیر شفاف، غیر جمہوری اور بڑے پیمانے پر حقِ رائے دہی سے محرومی قرار دیتے ہوئے شدید اعتراضات اٹھائے۔ اس سلسلے میں مختلف عدالتوں میں متعدد مقدمات اب بھی زیر سماعت ہیں۔

مطب شیخ کی جیت صرف ایک حلقے کی انتخابی فتح نہیں بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ اگر قانونی جدوجہد، عوامی حمایت اور سیاسی استقامت یکجا ہو جائیں تو انتظامی رکاوٹوں کے باوجود جمہوری حقوق کو بحال کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مقدمے میں ٹریبونل کا یہ اہم مشاہدہ کہ “محض تکنیکی غلطی کی بنیاد پر کسی شہری کو ووٹر لسٹ سے خارج نہیں کیا جا سکتا” مستقبل میں ووٹر لسٹ سے متعلق کئی قانونی تنازعات میں ایک مضبوط نظیر بن سکتا ہے۔

اسی لیے 2026 کی بنگال سیاست میں مطب شیخ کی فرخا جیت کو صرف ایک انتخابی نتیجہ نہیں بلکہ جمہوری حقوق کے تحفظ کی ایک اہم سیاسی و قانونی مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں