حیدرآباد (دکن فائلز) کانگریس کی مسلم خاتون رہنما شمع محمد ایک مسلم صارف کو “پاکستان جا کر شہریت لینے” کا مشورہ دینے کے بعد شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہیں۔ یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب انہوں نے اداکار رنویر سنگھ کی فلم دھرندر ایک کی تعریف کی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شعیب علی محمد نامی صارف، جس نے خود کو آئی آئی ٹی اور آئی آئی ایم گریجویٹ بتایا، نے شمع محمد کی پوسٹ پر اعتراض کرتے ہوئے فلم کو “ہندوتوا پروپیگنڈا” قرار دیا۔
صارف نے لکھا کہ فلم میں مسلمانوں کو منفی انداز میں پیش کیا گیا ہے، جس پر شمع محمد نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ فلم میں مسلمانوں نہیں بلکہ پاکستانیوں کو منفی انداز میں دکھایا گیا ہے، اور “ایسے لوگ ہندوستانی مسلمانوں کا نام خراب کرتے ہیں، آپ چاہیں تو پاکستان جا سکتے ہیں۔”
ان کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا۔ ناقدین نے کہا کہ “پاکستان چلے جاؤ” جیسی زبان طویل عرصے سے ہندوتوا سیاست میں اختلاف کرنے والے مسلمانوں کے خلاف استعمال ہوتی رہی ہے، اور کانگریس کے رہنماؤں سے ایسی زبان کی توقع نہیں کی جاتی۔
بعد ازاں مذکورہ صارف نے بھی سخت جواب دیتے ہوئے کہا کہ “آپ کون ہوتی ہیں مجھے پاکستان جانے کو کہنے والی؟ میرے آباؤ اجداد نے اس ملک کے لیے قربانیاں دی ہیں اور وہ اسی سرزمین کے بیٹے تھے۔”
دوسری جانب فلم “دھورندھر پارٹ 1” بھی سوشل میڈیا پر تنازعات کا شکار بنی ہوئی ہے۔ کئی مبصرین اور صارفین کا الزام ہے کہ فلم قوم پرستی کے نام پر مسلم مخالف بیانیہ کو فروغ دے رہی ہے۔


