“بی جے پی کو جتواؤ، کنواروں کی شادیاں کروائیں گے” انوکھا انتخابی وعدہ

حیدرآباد (دکن فائلز) انقلاب کی رپورٹ کے مطابق ہریانہ میں جاری بلدیاتی انتخابات کے دوران ایک غیرمعمولی اور دلچسپ انتخابی وعدہ موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بملا چودھری نے انتخابی مہم کے دوران اعلان کیا کہ اگر عوام بھارتیہ جنتا پارٹی کو کامیاب بنائیں تو وہ علاقے کے کنوارے نوجوانوں کی شادیاں کروانے کی ذمہ داری خود لیں گی۔

یہ بیان ریواڑی میونسپل کونسل انتخابات کے سلسلے میں منعقدہ ایک انتخابی جلسے کے دوران سامنے آیا، جہاں بی جے پی امیدوار ونیتا پیپل کی حمایت میں جلسہ منعقد کیا گیا تھا۔ جلسے میں خطاب کرتے ہوئے بملا چودھری نے ہنستے ہوئے کہا کہ “آپ بس ہمیں ووٹ دے کر کامیاب بنائیے، ان کنوارے نوجوانوں کے گھر بسانے یعنی ان کی شادیاں کرانے کی پوری ذمہ داری میں لیتی ہوں۔”

ان کے اس بیان پر جلسہ گاہ میں قہقہے گونج اٹھے جبکہ اسٹیج پر موجود ہریانہ کی وزیر صحت آرتی راؤ نے بھی مزاحیہ انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ “ودھائیکہ جی نے تو میرج بیورو کھول لیا ہے۔”

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بملا چودھری نے اپنے بیان کا دفاع کیا اور کہا کہ وہ اس سے پہلے بھی پلول اور دیگر اضلاع کی کئی لڑکیوں کے ساتھ کنوارے نوجوانوں کی شادیاں کروا چکی ہیں۔

اگرچہ جلسے میں اس بیان کو ہلکے پھلکے انداز میں لیا گیا، تاہم اس کے پس منظر میں جنوبی ہریانہ کا ایک سنگین سماجی بحران موجود ہے۔ ماہرین کے مطابق ریاست میں گزشتہ کئی دہائیوں سے بچیوں کے اسقاط حمل، صنفی امتیاز اور لڑکیوں کی کم شرحِ پیدائش کے باعث “بیچلر کرائسز” شدت اختیار کر چکا ہے۔

2011 کی مردم شماری کے مطابق ہریانہ میں ہر ایک ہزار مردوں کے مقابلے میں صرف 879 خواتین موجود تھیں، جبکہ بچوں کے صنفی تناسب میں ہر ایک ہزار لڑکوں کے مقابلے میں صرف 834 لڑکیاں تھیں۔ اسی عدم توازن کے باعث ریواڑی، مہندر گڑھ، جھجھر اور گروگرام جیسے اضلاع میں ہزاروں نوجوان تیس اور چالیس سال کی عمر عبور کرنے کے باوجود شادی نہیں کر پا رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے نتیجے میں خاندانوں کو دوسری ریاستوں خصوصاً بہار اور مشرقی ہندوستان سے دلہنیں لانی پڑ رہی ہیں۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ ہریانہ کی سیاست میں “دلہن” اور “شادی” کا موضوع نیا نہیں ہے۔ 2014 کے اسمبلی انتخابات کے دوران بی جے پی کے سینئر رہنما او پی دھنکر نے بھی کنوارے نوجوانوں کے لیے بہار سے دلہنیں لانے کا بیان دیا تھا، جس پر ملک بھر میں شدید تنقید ہوئی تھی۔

ریواڑی میونسپل کونسل انتخابات کے لیے ووٹنگ 10 مئی کو ہوگی جبکہ نتائج 13 مئی کو جاری کیے جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں